اس نے کہا کعبہ ترا، میں نے کہا چہرہ ترا اس نے کہا چہرہ ترا، میں نے کہا جلوہ ترا

اس نے کہا کعبہ ترا، میں نے کہا چہرہ ترا اس نے کہا چہرہ ترا، میں نے کہا جلوہ ترا

سر کشن پرساد شادؔ


اس نے کہا کعبہ ترا، میں نے کہا چہرہ ترا
اس نے کہا چہرہ ترا، میں نے کہا جلوہ ترا


اس نے کہا جینا ترا میں نے کہا ہستی تری
اس نے کہا مرنا ترا، میں نے کہا پردہ ترا


اس نے کہا کیا کام ہے، میں نے کہا ہر وقت دید
اس نے کہا کیا شغل ہے، میں نے کہا سودا ترا


اس نے کہا مقصد ترا، میں نے کہا تو ہی تو ہے
اس نے کہا قسمت تیری، میں نے کہا منشا ترا


اس نے کہا خدمت تری، میں نے کہا ہے بندگی
اس نے کہا کیا نام ہے، میں نے کہا بندہ ترا


اس نے کہا وہ کون تھا خلوت میں خواہانِ وصال؟
میں نے کہا وہ ’’شاد‘‘ؔ تھا عاشق ترا، شیدا ترا

Post a comment

0 Comments