ترے قبضے میں سب کچھ ہے تو جو چاہے جہاںکردے بیاباں کو چمن کردے، قفس کو آشیاں کردے

ترے قبضے میں سب کچھ ہے تو جو چاہے جہاںکردے بیاباں کو چمن کردے، قفس کو آشیاں کردے

معجزؔلکھنوی (کراچی)


ترے قبضے میں سب کچھ ہے تو جو چاہے جہاں کردے
بیاباں کو چمن کردے، قفس کو آشیاں کردے


تو سونے کو حذف کردے، حذف کو زر فشاں کردے
گدا کو حکمرانی دے، کراں کو بیکراں کردے


تو خالق ہے تو مالک ہے تو رازق ہے تو قادر ہے
جسے چاہے مٹادے جس کو چاہے جاوداں کردے


عطا کی ہے ہمیں اللہ نے اخلاق کی نعمت
یہ وہ نعمت ہے جو نامہرباں کو مہرباں کردے


کڑکتی دھوپ کفر و شرک کی اپنے سروں پر ہے
ردائے رحمت کل کو ہمارا سائباں کردے


سجا سکتا ہے جو روئے فلک کو چاند تاروں سے
وہ جب چاہے کسی بھی راستے کو کہکشاں کردے


جو تھا مہمان تیرا عرش اعظم پر شب اسریٰ
خدایا! معجزؔ عاصی کو اس کا میہماں کردے

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے