نفس نفس ہے تری حکومت جہاں ہے حسن خیال تیرا

نفس نفس ہے تری حکومت جہاں ہے حسن خیال تیرا

سیدراشدحامدی


نفس نفس ہے تری حکومت جہاں ہے حسن خیال تیرا
زمین سے تافلک ہے ظاہر جمال تیرا جلال تیرا
یہ روز و شب کا حسیں تسلسل ہے ایک ادنیٰ کمال تیرا
چراغ شب ہے یقیں تیرا سحر ہے عکس جمال تیرا
ہجوم غم میں تجھے صدا دی تجھے پکارا مسرتوں میں
سرور آگیں ہے ذکر تیرا نشاط جاں ہے خیال تیرا
احد بھی تو ہے صمد بھی تو ہے نہیں ہے تیرا شریک کوئی
نمود صبح ازل بھی تو ہے عروج بھی لازوال تیرا
شعور اشیا کا تونے بخشا حروف بخشے سخن کو میرے
متاع حرف و نوا بھی تیری جہان فکر و خیال تیرا
ہزار گرداب میں ہو کشتی ہزار طوفاں میں ہو سفینہ
مجھے کسی کا خوف ہو کیوں کر ہے میرا مانجھی خیال تیرا
کہیں جمائے پہاڑ تونے کہیں یہ دریا بہائے تونے
ہر ایک شے سے جھلک رہا ہے توازن و اعتدال تیرا
قلم بھی قاصر زباں بھی عاجز حروف صم حروف بکم
تراشوں کیسے میں تیرا پیکر نہ کوئی خد ہے نہ خال تیرا
شعور سمتوں کا تونے دے کر مرے سفر کو جہت عطا کی
بدیع مشرق‘ بدیع مغرب‘ جنوب تیرا شمال تیرا
نمازیں کردے مری مرصع سجودکردے مرے مزین
جبیں ہو راشدؔ کی صبح آسا‘ زمانہ دیکھے کمال تیرا

Post a comment

0 Comments