تو ہی سا زندۂ کون و مکاں ہے تو ہی دارندۂ ہر دو جہاں ہے

تو ہی سا زندۂ کون و مکاں ہے تو ہی دارندۂ ہر دو جہاں ہے

سر محمد اسماعیل خاں صاحب تاجؔ (ٹونک)


تو ہی سا زندۂ کون و مکاں ہے
تو ہی دارندۂ ہر دو جہاں ہے
تو ہی قادر تو ہی خلاق مطلق
تو ہی فرماں روائے کن فکاں ہے
نوازش عام ہے تیری جہاں پر
ترا ممنون یہ سارا جہاں ہے
بسا ہے ہر نظر میں نور تیرا
تو ہی ہر قلب میں جلوہ کناں ہے
پرستش کے ہے قابل صرف تو ہی
تو ہی معبود و مسجود جہاں ہے
تو ہی لاریب خالق انس و جاں کا
تو ہی پروردگار انس و جاں ہے
ترے ابر کرم سے ہے یہ شاداب
تو ہی زیبندۂ باغ جہاں ہے
تو ہی ہے تاجؔ کا حامی و والی
ترا ہی نام اس کا حرز جاں ہے

Post a comment

0 Comments