یوں تو سب اپنے ہیں لیکن صرف میرا کون ہے

یوں تو سب اپنے ہیں لیکن صرف میرا کون ہے

خواب افلاک


یوں تو سب اپنے ہیں لیکن صرف میرا کون ہے
سوچتا ہوں آسرا تیرے علاوہ کون ہے
یاس کی شاخوں پہ مہکاتا ہے امیدوں کے پھول
تو نہیں تو ان بیابانوں میں ایسا کون ہے
تو نہیں تو کون کرتا ہے ہوا کو تیز گام
موتیوں کو تیز رو پانی میں بوتا کون ہے
کس کے احکامات سے ہوتا ہے روشن آفتاب
ڈھلتے سورج میں شفق کا رنگ بھرتا کون ہے
کون آخر بخشتا ہے ہے جنگجوئوں کو چمک
سنگ کے دل میں شرارا بونے والا کون ہے
کون اندھیاروں میں دیتا ہے اجالوں کا سراغ
ہجر کی تاریک راتوں کا سویرا کون ہے
خواب کو یہ کون کرتا ہے حقیقت کے قریب
وہم کے لب پر یقیں بن کر ابھرتا کون ہے

Post a comment

0 Comments