وہ قطرے کو بھی دریا کی روانی بخش دیتا ہے سلگتے تپتے صحرا کو بھی پانی بخش دیتا ہے

وہ قطرے کو بھی دریا کی روانی بخش دیتا ہے سلگتے تپتے صحرا کو بھی پانی بخش دیتا ہے

نازاںؔ جمشیدپوری


وہ قطرے کو بھی دریا کی روانی بخش دیتا ہے
سلگتے تپتے صحرا کو بھی پانی بخش دیتا ہے


ملا دیتا ہے مٹی میں غرورِ شان و شاہی کو
وہ چاہے تو گدا کو حکمرانی بخش دیتا ہے


وہی تو جگمگاتا ہے مقدر کے اندھیروں کو
شب ظلمات کو وہ ضوفشانی بخش دیتا ہے


جسے جس حال میں رکھے یہ اس کی مصلحت ٹھہری
دل ناشاد کو بھی شادمانی بخش دیتا ہے


کسی کی کوشش پیہم سے حاصل ہو نہیں سکتی
شکستہ پا کو ایسی کامرانی بخش دیتا ہے


نرالی شان ہے اس کی یہی پہچان ہے اس کی
ابابیلوں کو گھر کی پاسبانی بخش دیتاہے


وہ خالق ہے وہ رزاق ہے وہ حاکم ہے وہ مالک بھی
جسے چاہے وہ نازاںؔ خوش بیانی بخش دیتا ہے

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے