گلہ ہی کیا نہ اگر مال و زر خدا نے دیا مجھے بہت ہے جو مجھ کو ہنر خدا نے دیا

گلہ ہی کیا نہ اگر مال و زر خدا نے دیا مجھے بہت ہے جو مجھ کو ہنر خدا نے دیا

پروفیسررحمن خاور (کراچی)


گلہ ہی کیا نہ اگر مال و زر خدا نے دیا
مجھے بہت ہے جو مجھ کو ہنر خدا نے دیا


مرا سفر بھی مرے واسطے قیام رہا
نہ جب تلک مجھے حکم سفر خدا نے دیا


یہ اور بات وسیلہ کوئی بھی ہو لیکن
مرا یقیں ہے مجھے عمر بھر خدا نے دیا


بغیر جنبشِ لب ہی مجھے ملا سب کچھ
کہ میرے دستِ دعا میں اثر خدا نے دیا


گھروں کے ہوتے ہوئے بے گھروں کی بستی میں
مجھے سکون ہے جس میں وہ گھر خدا نے دیا


تو خوش نصیب ہے اے کاروانِ اہل زمیں
کہ مصطفےؐ سا تجھے راہبر خدا نے دیا


میں دوستوں کی نظر میں ہوں معتبر خاورؔ
مرے خلوص کا مجھ کو ثمر خدا نے دیا

Post a comment

0 Comments