اے خدا صدقہ کبریائی کا صدقہ اس نور مصطفائی کا

اے خدا صدقہ کبریائی کا صدقہ اس نور مصطفائی کا

امیرؔمینائی



اے خدا صدقہ کبریائی کا
صدقہ اس نور مصطفائی کا
سیدھے رستے چلائیو ہم کو
پیچ و خم سے چھڑائیو ہم کو
مرتے دم غیب سے مدد کیجو
جب دم واپسیں ہو یااللہ
لب پہ ہو لا الہٰ الّا اللہ
دین و دنیا کی آبرو لیجو
دونوں عالم میں سرخرو کیجو
کینہ دھو مومنوں کے سینے سے
سینے ہوجائیں پاک کینے سے
سب کو اک راستہ دکھا یارب
دور ہو اختلافِ بیجا سب
دین ہو دین احمدیؐ کل کا
ہو طریق محمدیؐ کل کا
ہے خدا تو بڑا سمیع و مجیب
بے مرادوں کی کر مراد نصیب
کل مریضوں کو تندرستی دے
ناتوانوں کے تن میں چستی دے
بے وطن کو وطن میں پہنچا دے
قید سے قیدیوں کو چھڑوا دے
کر غریبوں سے تنگدستی دور
تنگدستوں سے فاقہ مستی دور
رکھتے کثرت سے ہیں جو اہل و عیال
کر عطا ان کو حسبِ حاجت مال
جو ہیں مظلوم ان کی سن فریاد
اور کر غمزدوں کے دل کو شاد
تیرے بندے ہیں سب یتیم و اسیر
تیرے محتاج ہیں غریب اور امیر
نہ رہے کوئی خستہ دل غمگین
سب کی پوری مراد ہو، آمین

Post a comment

0 Comments