قلبِ مومن کو تو ہی چشمِ تمنائی دے اور توہی دستِ مسیحا کو مسیحائی دے

قلبِ مومن کو تو ہی چشمِ تمنائی دے اور توہی دستِ مسیحا کو مسیحائی دے

حنیف اخگرؔ


قلبِ مومن کو تو ہی چشمِ تمنائی دے
اور توہی دستِ مسیحا کو مسیحائی دے


تو مجھے کاش یہ اعزازِ شناسائی دے
کبھی تنہائی کا احساس نہ تنہائی دے


تیرا سودا ہو مجھے قسمتِ سودائی دے
میرے اللہ مجھے ذوقِ جبیں سائی دے


باندھوں کثرت سے میں مضمون ھواللہ احد
تو مرے حمد کے انداز میں یکتائی دے


وسعتِ فکرونظر سے مری جھولی بھردے
اے خدا میری تمنا کو پذیرائی دے


دامنِ زیست لئے دستِ اجل تیری عطا
نزع میں کلمۂ توحید توانائی دے


اس کی توبہ کو تو ہی توبۂ صالح کردے
صورتِ بخشش اخگرؔ کوئی دکھلائی دے

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے