وہ خادم اکیلے میں کیا لکھ رہا ہے سنا ہے کہ حمدِ خدا لکھ رہا ہے

وہ خادم اکیلے میں کیا لکھ رہا ہے سنا ہے کہ حمدِ خدا لکھ رہا ہے

خادم عظیم آبادی (کراچی)


وہ خادم اکیلے میں کیا لکھ رہا ہے
سنا ہے کہ حمدِ خدا لکھ رہا ہے


وہ کہتا ہے دل کو قرار آگیا ہے
عجب نسخۂ کیمیا لکھ رہا ہے


حصاروں میں ہے وہ بڑی برکتوں کے
کہ جس دن سے حمدو ثنا لکھ رہا ہے


خدایا! یہ ساری کریمی ہے تیری
تواتر سے نظم وفا لکھ رہا ہے


یہ دن رات تیرے ہوئے کتنے روشن
جبھی تو انہیں پُرضیا لکھ رہا ہے


وہ دن رات لکھتا رہے بس دعائیں
نئے ڈھنگ سے برملا لکھ رہاہے


صلہ مدحتوں کا ملا تجھ کو خادمؔ
زمانہ تجھے پارسا لکھ رہا ہے

Post a comment

0 Comments