مصیبتیں ہیں کھڑی وہ جو ٹال دے مولیٰ مرے نصیب سے ان کو نکال دے مولیٰ

مصیبتیں ہیں کھڑی وہ جو ٹال دے مولیٰ مرے نصیب سے ان کو نکال دے مولیٰ

سالکؔ بستوی


مصیبتیں ہیں کھڑی وہ جو ٹال دے مولیٰ
مرے نصیب سے ان کو نکال دے مولیٰ


کریم تیری صفت ہے نہیں کوئی تجھ سا
مری حیات کو مال و منال دے مولیٰ


بہارِ خلد کی مجھ پر نثار ہوجائے
مرے عمل کو وہ حسن و جمال دے مولیٰ


شبِ الم کی بھیانک فنا سے ڈرتا ہوں
فلاح و خیر کا سورج نکال دے مولیٰ


زمانہ رشک کرے میری پاک سیرت پر
اسے بھی فضل سے اپنے اجال دے مولیٰ


اذاں سے میری جگر کانپ جائے شیطاں کا
یہ آرزو ہے کہ جذبِ بلالؓ دے مولیٰ


تری ثنا پہ خدا رات دن رہے سالکؔ
مرے خیال کو ایسا کمال دے مولیٰ

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے