سجدے میں ہے کائنات مسجود اللہ شاہد ہے، شہود بھی ہے، مشہود اللہ

سجدے میں ہے کائنات مسجود اللہ شاہد ہے، شہود بھی ہے، مشہود اللہ

پروفیسر طلحہ رضوی برقؔ


سجدے میں ہے کائنات مسجود اللہ
شاہد ہے، شہود بھی ہے، مشہود اللہ
اس ربطِ بہر حال کی بھی لاج رہے
میں عبد ہوں اور تو ہے معبود اللہ


***
دنیا میں ہے کیا دکھائو الا اللہ
دھوکے میں نہ اس کے آئو الا اللہ
پلکوں سے گرا دو اسے تم صورتِ اشک
اک ضربِ جلی لگائو الا اللہ

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے