مقدر جب بلندی پر بفیضِ کبریاہوگا

مقدر جب بلندی پر بفیضِ کبریاہوگا



مقدر جب بلندی پر بفیضِ کبریاہوگا
جبینِ شوق ہوگی اور درِ خیرالوریٰ ہوگا

یہی پہچان ہے بس عاشقِ سرکارکی ،اس کے
لبوں پر ہر گھڑی صلِ علیٰ صلِ علیٰ  ہوگا

جنوں لے جائے گا جس دم اسے شہرِمدینہ میں
سنہری جالیوں کوتھامے دیوانہ کھڑا ہوگا

نظر کے سامنے جب گنبدِخضریٰ رہے گاتو
زباں خاموش ہوگی اور یہ دل بولتا ہوگا

خبرکردیجئے ہراک مسافرکویہ راہوںمیں
وہیںمنزل چھپی ہوگی جہاںکہ نقشِ پا ہوگا

سرِمحشر ملے گا آسراان کی شفاعت کا
گناہوںسے پشیماںہوکے جب دل ڈوبتا ہوگا

ندامت کے جوآنسو آج دنیامیں بہاتاہے
وہ عصیاںکوش محشرمیں بھی سجدے میں پڑا ہوگا

کرم ہوجائے گا جب مجھ پہ سلطانِ مدینہ کا
ملے گی غم سے آزادی خوشی کا گل کھلا ہوگا

مجھے حاضر کیاجائے گا جب میدانِ محشر میں
زبان پر ہوگا نامِ مصطفیٰ دل میں خدا ہوگا

خدالے جائے جو مجھ کو کبھی طیبہ کی گلیوںمیں
جمالِ گنبدِخضریٰ پہ میرا دل فداؔ  ہوگا

دکھائیں گے جواپنی موہنی صورت وہ محشرمیں
دلِ دیوانہ ان کے روئے زیبا پر فداؔ ہوگا

یقیںہے درگزر فرمائیںگے وہ میزباںبن کر
درِسرور پہ حاضرجب فداؔئے پُرخطا ہوگا
غلام ربانی فداؔ




ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے