اِنْ نَلْتِ يَا رِيْحَ الصَّبَا يَوْمًا اِلٰي اَرْضِ الحَرم

اِنْ نَلْتِ يَا رِيْحَ الصَّبَا يَوْمًا اِلٰي اَرْضِ الحَرم

اِنْ نَلْتِ يَا رِيْحَ الصَّبَا يَوْمًا اِلٰي اَرْضِ الحَرم
بَلِّغْ سَلاَمِيْ رَوْضَةً فِيْهَا النَّبِيُّ المُحْتَرَم
اے بادِ صبا، اگر تیرا گزر سرزمینِ حرم تک ہو
تو میرا سلام اس روضہ کو پہنچانا جس میں نبیِ محترم تشریف فرما ہیں

مَنْ وَّجْهُهُ شَمْسُ الضُّحٰي مَنْ خّدُّهُ بّدْرُ الدُّجٰي
مَن ذآتُهُ نُورُ الهُديٰ مَنْ كَفُّهُ بّحْرُ الْهَمَمْ

وہ جن کا چہرۂ انور مہرِ نیمروز ہے اور جن کے رخسارتاباں ماہِ کامل
جن کی ذات نورِ ہدایت، جن کی ہتھیلی سخاوت میں دریا


قُرْأنُهُ بُرْهَانُنَا نََسْخاً لاَدْيَانِ مَّضَتْ
اِذْجَاءَنَا اَحْكَامُهُ كُلُّ الصُّحُفِ صَارَ الْعَدَمْ 

اُن کا (لایا ہوا) قرآن ہمارے لئے واضح دلیل ہے جس نے ماضی کے تمام دینوں کو منسوخ کر دیا
جب اس کے احکام ہمارے پاس آئے تو (پچھلے) سارے صحیفے معدوم ہو گئے


اَكْبَادُنَا مَجْرُوحَةٌ مِنْ سَيْفِ هِجْرِ الْمُصْطَفٰي
طُوْبيٰ لآهلِ بَلْدَةٍ فِيْهَا النَّبِيُّ المُحْتَشَمْ

ہمارے جگر زخمی ہیں فراقِ مصطفیٰ کی تلوار سے
خوش نصیبی اس شہر کے لوگوں کی ہے جس میں نبیِ محتشم ہیں


يَالَيْتَنِي كُنْتُ كَمَنْ يَّتَّبِعْ نَبِيَاً عَالِماً
يَوْماً وَلَيْلاً دَائِماً وَارْزُقْ كَذَلِيْ بِالكَرَمْ

کاش میں اس طرح ہوتا جو نبی کی پیروی علم کے ساتھ کرتا ہے
دن اور رات ہمیشہ یہی صورت اپنے کرم سے عطا فرما


يَا رَحْمَةً لِّلعَالَمِين اَنْتَ شَفِيْعُ المُذْنِبِينْ
اَكْرِمْ لَنَا يَوْمَ الحَزيْن فَضْلاً وَّجُوْداً وَّالكَرَمْ

اے رحمتِ عالم آپ گناہ گاروں کے شفیع ہیں
ہمیں قیامت کے دن فضل و سخاوت اور کرم سے عزت بخشئے


يَا رَحْمَةً لِّلعَالَمِينْ اَدْرِكْ لِزَيْنِ الْعَابديْن
مَحْبُوْسِ اَيْدِ الظَّالِمِينْ فِيْ الْمَوْكَبِ وَالْمزْدَحَمْ

اے رحمتِ عالم زین العابدین کو سنبھالیے
وہ ظالموں کے ہاتھوں میں گرفتار بھیڑ میں ہے


(امام زین العابدین)
× مشہور تو یہی ہے کہ یہ قصیدہ امام حُسین کے فرزندِ سعید امام علی زین العابدین نے بیاں فرمایا تھا، لیکن اس سلسلے میں مجھے کوئی دلیل نہیں مل پائی ہے۔ خیر اس سے قصیدے پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔
×× ترجمہ ایک ویب سائٹ سے لیا گیا ہے۔​

Post a comment

0 Comments