پہنچتا ہے ہر اک میکش کے آگے دورِ جام اس کا

پہنچتا ہے ہر اک میکش کے آگے دورِ جام اس کا

ؔظفر علی خان


پہنچتا ہے ہر اک میکش کے آگے دورِ جام اس کا
کسی کو تشنہ لب رکھتا نہیں ہے لطفِ عام اس کا


گواہی دے رہی ہے اس کی یکتائی پہ ذات اس کی
دوئی کے نقش سب جھوٹے ہیں سچا ایک نام اس کا


ہر اک ذرہ فضا کا داستاں اس کی سناتا ہے
ہر اک جھونکا ہوا کا آکے دیتا ہے پیام اس کا


نظام اپنا لئے پھرتا ہے کیا خورشید نور افشاں
ہزاروں ایسی دنیائوں کو شامل ہے نظام اس کا


میں اس کو کعبہ وبت خانہ میں کیوں ڈھونڈنے نکلوں
مرے ٹوٹے ہوئے دل ہی کے اندر ہے مقام اس کا


سراپا معصیت میں ہوں، سراپا مغفرت وہ ہے
خطا کوشی روش میری، خطا پوشی ہے کام اس کا


مری افتادگی بھی میرے حق میں اس کی رحمت تھی
کہ گرتے گرتے بھی میں نے لیا دامن ہے تھام اس کا



وہ خود بھی بے نشاں ہے، زخم بھی ہیں بے نشاں اس کے
دیا ہے اس نے جو چرکہ نہیں ہے التیام اس کا


عبودیت کو بھی کیا کیا مدارج اس نے بخشے ہیں
جہاں میں بن کے آتا ہے رسول اس کا، غلام اس کا


ہوئی ختم اس کی حُجّت، اس زمیں کے بسنے والوں پر
کہ پہنچایا ہے ان سب تک محمدؐ نے کلام اس کا


بجھاتے ہی رہے پھونکوں سے کافر اس کو رہ رہ کر
مگر نور اپنی ساعت پر رہا ہو کر تمام اس کا


نہ جا اس کے تحمل پر کہ ہے بے ڈھب گرفت اس کی
ڈر اس کی دیر گیری سے کہ ہے سخت انتقام اس کا

Post a comment

0 Comments