حافظ کرناٹکی سے ادبی مکالمہ

حافظ کرناٹکی سے ادبی مکالمہ



حافظ
کرناٹکی سے ادبی مکالمہ


مصاحبہ
گو؛ غلام ربانی فداؔ


سوال:    آپ علمی و مذہبی شخصیت کے حامل ہیں، مختصر خاندانی
پس منظر بیان کیجئے۔

جواب
:
   میرا سلسلہ نسب عادل شاہی خاندان سے ملتا ہے، میرے
دادا قاسم صاحب اصلاً آندھراپردیش، پنگنڈا کے باسی تھے۔ انگریزی استبداد کی وجہ سے
جب معزز خاندانوں کا زوال شروع ہوا تو وہ ہجرت کر کے کرناٹک چلے آئے۔ کیوں کہ وہ
نہیں چاہتے تھے کہ کل تک جن لوگوں کی امداد کیا کرتے تھے آج انہیں کے سامنے خستہ
حالی کی زندگی گزاریں۔ وہ علم و آگہی کا اور زبان و ادب کا خاصہ شعور رکھتے تھے۔
سو انہوں نے اپنے تمام بچوں کو تعلیم دلائی۔ میرے والد صاحب کچھ دنوں ملٹری میں
رہے پھر گورنمنٹ معلم بن گئے۔ میری والدہ محترمہ بھی معلمہ تھیں۔ اور نہایت عمدہ
ادبی ذوق رکھتی تھیں، وہ اپنے طور پر حمد و نعت کہا کرتی تھیں اور اسکول کے بچوں
کو سنا کر خوش ہوتی تھیں۔ میری تربیت میں والدہ کے ادبی ذوق اور گھر کے مذہبی
ماحول کا بہت ہی اہم رول ہے۔

سوال:    آپ نے بچوں کے لیے جو کتابیں لکھی ہیں اسے ادب
اطفال کبھی فراموش نہیں کرسکے گا۔ آپ ادب اطفال کی طرف کب اور کیسے متوجہ ہوئے؟
پہلی غزل یا نظم کے ایک آدھ اشعار سنائیں۔

جواب
:
   میں نے ادب اطفال کے لیے جو کچھ لکھا ہے وہ کتنا
اہم اور قیمتی ہے اس کا فیصلہ میں نہیں وقت کرے گا۔ کہ وہی سب سے بڑا فیصل ہے۔
ویسے تو میں ابتدا ہی سے شعر و شاعری کی طرف راغب ہوگیا تھا اور نظمیں غزلیں کہنے
لگا تھا۔ جسے میں اپنے دوستوں کو سنایا کرتا تھا اور ان کی تعریف سے حوصلہ پاتا
تھا۔ میری پہلی غزل روزنامہ سالار بنگلور میں
۱۹۸۲ء؁ میں شائع ہوئی
۔ جس کے دو اشعار اب بھی یاد ہیں۔ آپ بھی سن لیجئے۔

پھول
نہیں توکانٹا دے

مجھ
کوکوئی تحفہ دے

شبنم
مانگ رہے ہیں گل

آنکھیں
اپنی چھلکا دے


ہاں
میں بچوں کے ادب کی طرف اس وقت متوجہ ہوا جب مجھے اردو کی نصابی کتابوں کی تیاری
والی کمیٹی میں شامل کیا گیا۔ میںنے نصاب کی ضرورت کے تحت جب نظمیں تلاش کیں تو
بڑی مایوسی ہوئی۔ بعض لوگوں نے مجھے حوصلہ دیا کہ تم خود بھی تو شاعری کرتے تھے۔
اس لیے تم ہی کوشش کرو۔ اس طرح میں نے بچوں کے لیے موضوعاتی نظمیں لکھنی شروع کردی
جس کی بے طرح تعریف ہوئی۔ اور میں نے ہر قسم کی ضرورت کے تحت بے تحاشا نظمیں لکھیں
تب سے اب تک یہ سفر جاری ہے۔

سوال:    آپ نعت کی جانب کب متوجہ ہوئے۔ اور آپ کی پہلی نعت
کہاں شائع ہوئی۔

جواب
:
   میں نے بتایا کہ شاعری تو میں نے طالب علمی کے
زمانے سے شروع کردی تھی اور ہر طرح کی چیزیں کہتا تھا۔ اس میں نظم، غزل، حمد و
نعت، سبھی کچھ شامل تھا۔ لیکن میں نے اپنی شاعری کی اشاعت کی طرف زیادہ توجہ نہیں
دی اور بہت کچھ ابتدائی سرمایہ ضائع ہوگیا۔ بعدازاں اللہ کے فضل و کرم سے مجھے حج
و عمرہ کا بار بار موقع ملا تو اپنے آپ دل اس جانب مائل ہوگیا اور میں نے گنبد
خضرا کے سامنے بیٹھ کر کئی نعتیں کہہ ڈالیں۔ پھر تو سیرت النبیؐ اور حمد و نعت
میری تخلیقی زندگی کا اٹوٹ حصہ بن گیا۔ اللہ کا فضل ہے کہ یہ سلسلہ آج بھی جاری
ہے۔

سوال:    آپ اپنی ذات میں ایک انجمن ہیں، بہت سارے اداروں کی
نگرانی کرتے ہیں، کئی طرح کے سماجی اور فلاحی و رفاہی کام کرتے ہیں۔ تو آپ بتائیں
کہ اتنی ساری مصروفیت کے باوجود آپ ادب کے لیے کیوں کر وقت نکال لیتے ہیں۔

جواب
:
   ایک بات آپ جان لیجئے کہ تخلیقی نوعیت کا کوئی کام
ایسا نہیں ہوتا کہ آپ وقت نکال لیں یا آپ کے پاس بہت وقت ہو تو آپ شاعر یا فنکار
بن جائیں ۔ بات دراصل یہ ہے کہ تخلیق ایک طرح کا سوتہ ہوتا ہے جو اپنے آپ پھوٹ
نکلتا ہے۔ اور دنیا بھر کی مصروفیت اور اس کے تقاضوں کی خشکی کا سینہ پھاڑ کر پھوٹ
پڑتا ہے۔ جس سے نہ صرف یہ کہ فنکار تروتازہ ہوجاتا ہے بلکہ اس کی زندگی کی خشکی
اور حالات کا چٹیل پن بھی گلزار بن جاتا ہے۔ اس لیے میں کہہ سکتا ہوں کہ ادب کے
لیے میںوقت نہیں نکالتا ہوں ادب خود ہی مجھے ڈھونڈ نکالتا ہے اور کسی بھی وقت مجھ
پر تخلیقی بارش کی طرح برس جاتی ہے۔

سوال:    شعر گوئی جز وقتی کام ہے یا کل وقتی؟

جواب
:
   سوال واضح نہیں ہے۔ جو سچا فنکار ہوتا ہے وہ از اول
تا آخر بس فنکار ہوتا ہے بھلے سے اسے زندگی کے دوسرے کام بھی کرنے پڑتے ہوں۔ ادب
میں پارٹ ٹائم کام کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

سوال:    کیاشاعری کے لیے عشق ضروری ہے؟ کیا آپ بھی اس فطری
جذبہ سے مغلوب ہیں، عشق کی حیثیت آپ کی نظر میں؟

جواب
:
   آپ نے ایک ہی سوال کے تین ٹکڑے کردیئے ہیں، صرف
آخری جملہ ہی کافی تھا۔ بہرحال شاعری کے لیے ہی نہیں دنیا کے ہر کام کے لیے عشق
ضروری ہے۔ انسان کو اپنے کام سے عشق نہ ہو تو وہ کوئی بھی کام نہیں کرسکے گا۔ یوں
بھی دنیا میں کوئی بھی بڑا کام جنون کے بغیر انجام نہیں پاسکا ہے۔ جب آپ نے یہ کہہ
ہی دیا ہے کہ یہ فطری جذبہ ہے تو ظاہر ہے کہ فطری جذبہ سے دنیا کا کوئی بھی نارمل
انسان مُبرّا نہیں ہوسکتا ہے۔ ہاں اس کی نوعیت مختلف ہوسکتی ہے۔ عشق کی اہمیت میری
نظر میں روح کی سی ہے۔ مگر یہ بات وہی لوگ بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں جو حسن و عشق
کی حقیقت سے واقف ہیں۔

سوال:    آپ پر کن اساتذہ کرام کے گہرے اثرات ہیں؟

جواب
:
   سوال مہمل ہے، غالباً آپ یہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ
میں کن اہم شعرا سے زیادہ متاثر ہوں۔ تو بھائی عرض کرتا چلوں کہ میں ادب اطفال کی
حد تک مولانا اسماعیل میرٹھی سے کافی متاثر ہوں۔ مگر آپ ان کے اثرات میری شاعری
میں تلاش نہیں کرسکیں گے۔ کسی سے متاثر ہونا اور بات ہے اور کسی کے اثر میں گرفتار
ہونا اور بات ہے۔

سوال:    آپ کی پہلی مطبوعہ کتاب کا نام کیا ہے؟ اب تک آپ کی
کتنی کتابیں شائع ہوچکی ہیں؟

جواب
:
   میری پہلی مطبوعہ کتاب کا نام’’ معصوم ترانے‘‘ ہے۔
اب تک میری تقریباً تیس کتابیں شائع ہوچکی ہیں۔

سوال:    ادب اطفال کا مستقبل روشن ہے یا تاریک ؟

جواب
:
   شاید آپ نے سنا ہوگا کہ دانشوروں نے متفقہ طور پر
قریب قریب یہ بات مان لی ہے کہ اکیسویں صدی خواتین اور بچوں کی ہوگی۔ ایسی صورت
میں کیوں کر کہا جاسکتا ہے کہ ادب اطفال کا مستقبل تاریک ہے۔ ویسے اردو والے
مایوسی کی باتوں کے زیادہ عادی ہوگئے ہیں۔ آپ یقین جانیے کہ ادب اطفال اور اردو
ادب دونوں کا مستقبل تابناک ہے۔

سوال:    آپ کو ویران جزیرے میں بھیج دیا جائے تو کون سی
چیزیں لے جانا پسند کریں گے؟

جواب
:
   کتابیں اور کاغذ قلم۔

سوال:    آپ خوش ہوتے ہیں تو کیا کرتے ہیں؟

جواب
:
   باتیں کرتا ہوں، ہم
مذاق دوستوں کی محفل میں شریک ہوتا ہوں، اور نثر لکھتا ہوں۔

سوال
:
    آپ اداس ہوتے ہیں تو
کیا کرتے ہیں؟

جواب
:
   خاموش رہتا ہوں اور شاعری کرتا ہوں

سوال:    آپ کا پسندیدہ رنگ ، خوشبو، اور کپڑا

جواب
:
   میرا پسندیدہ رنگ سفید ہے، پسندیدہ خوشبو موگرا اور
حنا ہے۔ جب کہ کپڑا مجھے نرم ملائم اور راحت پہنچانے والا پسند ہے۔

سوال:    کرناٹک اردو اکیڈمی کے منصوبے

جواب
:
   اس کے لیے اکیڈمی کے اغراض و مقاصد منسلک کر رہا
ہوں

سوال:    جہانِ نعت کے تعلق سے آپ کے کیا تاثرات ہیں ۔
قارئین کو کیا پیغام دینا چاہیں گے؟

جواب
:
   ایسا جہان جسے جہانِ نعت سے تعبیر کیا جاسکتا ہو اس
کے حسن اور رعنائی اور دلکشی کا بھلا کیا بیان ہوسکتا ہے۔ ہر اہل ایمان اس جہان
میں گم ہوجانا پسند کرے گا۔

میں
اپنے قارئین کو بس یہ پیغام دینا چاہوں گا کہ آپ اس اعتقاد کے ساتھ اردو پڑھیئے ،
لکھئے اور بولئے کہ یہ زبان ہی نہیں تہذیب کی خوشبو بھی ہے۔ جو اس سے عاری ہے وہ
کاغذی پھول کی طرح خوبصورت تو ہوسکتا ہے مگر دوسروں کو معطر نہیں کرسکتا ہے۔

 

Post a comment

0 Comments