ثنائے صاحبِ لولاکﷺ

ثنائے صاحبِ لولاکﷺ

سیّد صبیح الدین صبیح رحمانی۔ کراچی


ثنائے صاحبِ لولاکﷺ


پروفیسرمحمد اکرم رضا کا شمار اُن کاملینِ فن میں ہوتا ہے جنھوںنے نعتیہ ادب کے فروغ کے لیے اپنی بہترین صلاحیتیں صرف کیں اور اس سلسلے میں ان کا دائرۂ عمل کافی وسیع ہے۔ تخلیقِ نعت، تنقیدِ نعت، تحقیقِ نعت اور تدوینِ نعت کی جہتوں میں ان کے کارہائے نمایاں اب کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ ان کی تحریریں فکر کی ارجمندی، صحت بخشی اور سا لمیت میں تمثال کی صورت رکھتی ہیں ایک طرف ان کی نثری تحریروں نے ان کے تشخص اور تعارف کو توقیع اور توسیع بخشتی ہے تو دوسری طرف ان کی شعری جہات نے ان کی ذہنی روش اور فکری رویوں کو پایۂ استقرا سے نوازا ہے۔ خصوصاً ان کی نعتیہ شاعری کی تب و تاب خاصی متاثر کن اور دلوں کو چھولینے والی ہے جس میںعلم اور شاعری ساتھ ساتھ چلتے نظر آتے ہیں اور اس خوش آئندرفاقت نے رضاصاحب کے کلام میں توازن اور سلیقے کی شمعیں روشن کردی ہیں اور یہ معمولی بات نہیں ہے۔ کسی کلام میں یہ کیفیت اس وقت سامنے آتی ہے جب شاعر تعلیماتِ دین، حدودِ شرع اور اسلامی اقدار سے آشنا ہونے کے ساتھ ساتھ ادب کی نزاکتوں سے واقف اور محبتِ رسولﷺسے بھی بہرہ مند ہو اور محبت بھی وہ جو آگہی کے شعور سے پیدا ہوتی ہے۔

نعت کے عصری منظرنامے پر کئی قابلِ احترام اور صاحبِ طرز شعرا اپنی اپنی جگہ اپنی عقیدتوں کے چراغوں کو فروزاں کیے ہوئے ہیں لیکن نعت کی کلی جہتوں کی کامل بصیرت او واقفیت بہت کم لوگوں کو حاصل ہے۔ الحمدللہ پروفیسر محمد اکرم رضا کے بارے میں یہ بات بہت اعتماد کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ وہ نعت کے علمی آفاق کی رفعتوں کا ادراک بھی رکھتے ہیں اور تخلیقی سطح پر بھی اپنی تنقیدی بصیرت کو کام میں لاتے ہیں اس طرح ان کی نعتیہ شاعری شعریت اور شریعت کے امتزاج سے متوازن شعری آہنگ میں ڈھل جاتی ہے۔ ’’نعت کیا ہے؟؟ کے حوالے سے سولہ اشعار پر مشتمل جو نظم اس مجموعے میں شامل ہے اس کے مطالعے ہی سے یہ اندازہ لگانا کتنا آسان ہوجاتا ہے کہ موصوف نعت کے علمی، احساساتی، تاثراتی اور موضوعاتی تنوع سے بخوبی واقف ہیں۔
نعت کیا ہے، ذکرِ سلطانِ عرب کا اہتمام
نعت کیا ہے، راحتِ قلبِ حزیں، لطفِ دوام
نعت کیا ہے، شوکتِ افکار کی رعنائیاں
نعت کیا ہے، عاصیوں کا اپنے آقا سے کلام
نعت کیا ہے، روح انساں کو پیامِ آگہی
نعت کیا ہے، اے رضا مدحِ محمد کا نظام

وہ نعت کو ذکرِ سلطانِ عرب کا اہتمام بھی جانتے ہیں اور قلبِ حزیں کی راحت بھی۔ نعت ان کے لیے گلستانِ زندگانی کی بہار بھی ہے اور انشراحِ لطفِ رب کا اہتمام بھی۔ نعت ان کے لیے آنکھ میں لرزیدہ آنسو کی چمک بھی ہے اور دل میں خوابیدہ محبت کا قیام بھی ہے۔ نعت کو وہ مطلعِ حسنِ یقین کی چاندنی سے بھی تعبیر فرماتے ہیں اور دل کے گلشن میں ہوائوں کے خرام سے بھی نعت کا تصور قائم کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ نعت محمد اکرم رضا کے لیے جلوۂ صبح ازل کی نمود بھی ہے اور نورِ ابد بھی، نعت کو وہ شوق کا ایسا پیغام سمجھتے ہیں جو خاص و عام کے لیے یکساں ہے۔ نعت کی تخلیقی کیفیات میں وہ دل کی چاہت اور سوز و گداز کی شمولیت ضروری جانتے ہیں اور اسی لیے نعت کو وہ شاعر پُرشوق کا حسنِ کلام گردانتے ہیں۔ نعت کی تخلیق کو وہ جذب و مستی کی اساس پر بھی پرکھتے ہیں اور رفعتِ ذوقِ یقیں کی بنیاد پر بھی۔ نعت کو پروفیسر محمد اکرم رضا شوکتِ افکار کی رعنائیوں کے منشور سے بھی دیکھتے ہیں اور نعت کو عاصی اُمتیوں کے جذبۂ شفاعت طلبی کے تحت اپنے آقا سے کلام کرنے کی کیفیت کے حوالے سے بھی جانچتے ہیں۔ نعت کو وہ افتخارِ جملہ اصنافِ سخن بھی سمجھتے ہیں اور اس صنفِ مقدس کو وہ کاروانِ عشق و مستی کی امامت کرتے ہوئے بھی محسوس کرتے ہیں۔ فرقت شہرمحمدﷺ کے باعث دل میں پیدا ہونے والی کسک بھی ان کے لیے نعت ہے اور وہ ارضِ شوق کی خواہشِ مدام کو بھی نعت ہی کے ذیل میں رکھ کر دیکھتے ہیں۔ من کے آنگن میں ستاروں کے طلوع کی کیفیت کو بھی وہ نعت کا نام دیتے ہیں اور عظمت خیرالانامﷺ کے حوالے سے پیدا ہونے والے دلوں کے احساسات کو بھی نعت سمجھتے ہیں۔ نعت کے خیال سے عنبر فشانی کا ہر نفس جنم لینے والا گمان بھی نعت ہے اور روح کی طرف سے ہدیۂ الصلوٰۃ والسلام بھی نعت ہے۔ پروفیسر محمد اکرم رضا کے نزدیک حسنِ ایمان سے نبیﷺ کے احترام کا جذبہ بھی نعت ہے اور توصیف محبوبِ خدا کے جذبے کا تموج بھی نعت ہے۔ کلکِ شاعر کے ذریعے عقیدت کا پیام پھیلے وہ بھی نعت ہے اور دورِ حاضر میں شاعری کا غالب رجحان بھی نعت ہی ہے۔ فکر شاعر کے مہکنے کو بھی نعت کہتے ہیں اور اسی کو زندگانی کے لیے بہارِ جاوداں جانتے ہیں۔ الغرض پروفیسر محمد اکرم رضا نعت کو صرف روشنی سے تعبیر کرتے ہوئے ربّ خیرالانام کا شکر ادا کرنے کے عمل کو بھی نعت کے ذیل میں لکھتے ہیں اور روحِ انسانی کو پیامِ آگہی ملنے کی صورت کو بھی نعت کا نام دیتے ہیں اوریوں وہ مدحِ سرکار دوعالمﷺ کے نظام کو مکمل نعت کے دائرے میں لے آتے ہیں۔

کسی شاعر کاشعری آدرش معلوم ہوجائے تو اس کے تخلیقی نگارخانے کی سیر بھی آسان ہوجاتی ہے۔ چناںچہ میں اپنی پسند کے چند اشعار بھی یہاں نقل کردیناضروری سمجھتا ہوں:
آپ کے فیض سے ہر ایک صدی ہے روشن
آپ کے در پہ ہر اک دور صدا دیتا ہے
٭
ثنائے صاحبِ لولاک کے لیے ہی رضا
خدائے پاک نے دونوں جہاں بنائے ہیں
٭
روشنی لے کر شہِ کونین کے افکار سے
اپنے خوابیدہ مقدر کو جگانا چاہیے
٭
ہر اک زمانہ اُن کے لطف و کرم کا شاہد
نسبت نبی کا ٹھہری اعزاز ہر صدی کا
محمد اکرم رضا دورِ حاضر کے مسائل کا واحد حل حضور پُرنور محمد رسول اللہ ﷺ کے حسین کردار کی کامل پیروی کو جانتے ہیں اور اس کابرملا اظہار فرماتے ہوئے کہتے ہیں:
عصرِ حاضر کے سرابوں کا تعاقب کرکے
کچھ میسر ہمیں آیا نہ بجز تشنہ لبی
پھر اس اُمت کو اس طرح رجوع الی الخیر کی دعوت دیتے ہیں:
روشنی آپ کے کردار حسیں سے لے کر
عصرِ حاضر کے ہر اک رنج کا چارا مانگو
جب کبھی ظلمت و اِدبار کے چھائیں بادل
اُس گھڑی سرور بطحا کا سہارا مانگو
جو غلامانِ شہِ دیں کو سرافرازی دے
پھر وہی خوبیٔ قسمت کا ستارا مانگو
اسی ضمن میں حضور اکرمﷺ سے بھی التجا کرتے ہوئے نظر آتے ہیں:
ہو رہا ہے منتشر شیرازۂ اُمت حضور
دہر کو درکار ہے پھر آپ کی سیرت حضور
اُمتِ محمدیہﷺ کے ادبار کا احساس جنابِ رضا سے ایسے اشعار بھی کہلواتا ہے:
روشنی کے تھے مسافر، ظلمتوں میں کھو گئے
پاراپارا ہوگئی اسلام کی وحدت حضور

محمد اکرم رضا کی نعت گوئی میں خود سپردگی اور جاں فگاری ہے جس کی بدولت ان کا رنگِ نعت حسنِ تغزل کے ستارے بکھیرتا نظر آتا ہے۔ یہ الفاظ کے سنگ ریزوں کو مہر و ماہ کی چمک عطا کرتے ہوئے اپنے محبوب کے حسنِ ظاہر و باطن کی جلوہ گری سے نعت کو غزلیت عطا کرتے ہیں۔ خوب صورت غزل کو بہترین نعتوں کے گل و لالہ کو شعورِ حیات بخشتا ہے۔ ان الفاظ کا رچائو، مصرعوں کی صد رنگی اور احساسات کے حسنِ عقیدت اور عشق کی جلوہ گری حسنِ تغزل کو جنم دیتی ہے۔ محمد اکرم رضا کے نغز و آہنگ کی آمیزش ان کی نعت گوئی کو دوامی چمک عطا کرتی ہے۔ کہتے ہیں:
کیا کچھ کہوں گا شانِ رسالت مآب میں
ہوںگا میں پیش جس گھڑی اُن کی جناب میں
ممکن نہیں کہ پھر کبھی آنکھوں کو وا کروں
رحمت پناہِ عالمیں آئیں جو خواب میں
٭
پھر چل پڑا ہے سلسلہ کیف و سرور کا
محفل میں ذکر چھڑ گیا میرے حضور کا
طیبہ کے پتھروں کو وہ تابانیاں ملیں
ہر ذرّۂ حجاز ہے ہم دوش طور کا

حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی جلوہ گری اور تجلیاتِ انوار کی ضوفگنی سے محمد اکرم رضا کا دل جھوم جھوم جاتا ہے، لفظوں کے حسنِ انتخاب کے جواہر چن کر محبوبِ دوعالمﷺ کے سراپا ئے انور کو اپنے قلم کا اعزاز بناتے ہیں، ملاحظہ کیجیے:
حسنِ فطرت کے انوار سے سر بسر میرے آقا کی صورت بنائی گئی
پھر اُسی شاہِ خوباں کے اعزاز میں بزمِ کون و مکاں جگمگائی گئی
جن کے انوار سے ضوفگن زندگی، جن کا کردار ہے روشنی روشنی
اُن کی چاہت بھی خالق کا انعام ہے قلبِ عشاق میں جو بسائی گئی
٭
آفتاب حرا جب ہوا ضوفگن، اے رضا نور تھا پھر چمن در چمن
ظلمتِ کفر و باطل مٹی آن میں، شمعِ توحید جس دم جلائی گئی
’’آہستہ آہستہ‘‘ کی ردیف میں بہت سے شعرا نے اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا ہے۔ محمداکرم رضا نے آج سے تیس سال قبل اس ردیف میں نعت لکھی۔ اس دور میں شاید و باید شعرا نے اس ردیف کو نعت کی نذر کیا ہو۔ جناب رضا کی نعت سے تین اشعار ملاحظہ ہوں:
زباں ہونے لگی محوِ ثنا آہستہ آہستہ
درِ لطف و کرم کھلنے لگا آہستہ آہستہ
نہ کر تو اختصارِ داستانِ شوق اے زائر
ذرا کچھ دیر لگ جائے سنا آہستہ آہستہ
ز راہِ لطف وہ اس کلبۂ ویراں میں آئیںگے
توُ شمعِ آرزو دل میں جلا آہستہ آہستہ

محمد اکرم رضا کے کلام میں صد رنگی ہے۔ آپ کے بقول نبی اکرمﷺ کا خلقِ بے کراں، آپ کی رحمت جاوداں ہے آپ کے نطق پہ ’’وما ینطق عن الھویo ان ھو الا وحی یوحی‘‘ کی جلوہ کاری، آپ کے عفوِ عام پہ حسنِ دوام کی غم گستری، پتھر کھا کر بھی رحمت کی دعا دینا، دشمنانِ دین کو جادۂ حق پر گامزن کرکے خلدِ نعیم کا مژدہ سنا دینا، وہ جن کے آنے سے زمانے کو جگمگاہٹ ملی، جن کے لطف و کرم سے اسلام کو سطوت ملی، جنھوںنے غریبوں کو شاد کامی بخشی۔ رنج و آلام کے ماروں کو پُرکیف زندگی کی نکہت بخشی۔ جنھوںنے عرب کے بدوئوں کو قیصر و کسریٰ کے مقدر کا مالک بنایا۔ جنھوںنے پژمردہ حیاتِ ارضی کو سکوں بخش زندگی کا قرینہ سکھایا۔ کرم ہی کرم، عطا ہی عطا، بخشش ہی بخشش، غرض ذاتِ تنہا اور کونین کی وسعتیں سینہ پُرنور میں لیے ہوئے:
سلگتے جسم پہ میرے گلوں کے سائے ہیں
حضور جب سے تصور میں میرے آئے ہیں
یہ زندگی کے حقائق صداقتوں کے سبق
سوائے آپ کے کس نے ہمیں سکھائے ہیں
عجیب شانِ کریمی کہ خالی ہاتھوں سے
خزانے آپ نے کونین کے لٹائے ہیں
اور پھر محمد اکرم رضا کی یہ نعت بھی حاصل یقین کہلائے گی جس میں انھوںنے کمال عاجزی کے ساتھ ہر شعر میں انداز بدل بدل کر اپنے والہانہ پن کا اظہار کیا ہے:
میں جو قسمت سے زمانہ تیرا پاتا آقا
تیرے قدموں پہ میں جان اپنی لٹاتا آقا

اور پھر مدہوشی اور ہوش مندی کی کیفیت کہ جب شاعر عشقِ حضور میں گم ہوکر اس جذبۂ حیرت میں کھو چکا ہے کہ وہ عالمِ مدہوشی میں ہے یا مقامِ ہوش پر کھڑا ہے۔ سامنے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے انواربکھر رہے ہیں۔ کرم باریوں اور عنایات کے نجوم جگمگا رہے ہیں۔ ان ستاروں نے اس کی آنکھوں میں اپنی جگہ بنا لی۔ وہ کبھی خود کو دیکھتا ہے اور کبھی اپنے مقدر کو کہ اس کی قسمت اسے کہاں لے آئی ہے۔ اللہ اکبر! نصیب کی یہ بلندی، یہ تو قربان ہونے کا مقام ہے۔ دیکھیے تو:
ہوش میں ہوں گا میں یا عالمِ مدہوشی میں
جب مرے دل میں بصد لطف وہ مہماں ہوںگے
میری آنکھوں میں جو اک بار بسیں وہ آکر
میری پلکوں پہ کئی چاند فروزاں ہوںگے
اُن کی عظمت کا تصور بھی کہاں ہے ممکن
جن کے دربار کے جبریل سے مہماں ہوںگے
ایک نعت گو کے لیے سب سے بڑی تمنا محشر کی تمازتوں میں شفاعتِ حضورﷺ ہے۔ اس کیفیت سے محمد اکرم رضا بھی سرشار ہیں کہ قبر کی تاریکیوں سے لے کر محشر تک اگر کوئی سہارا میسر آسکتا ہے تو وہ شفاعتِ حضورﷺ ہے۔ حضور مہربان ہیں تو خدائے قدوس مہربان ہے۔ حضورﷺ تو تمام اُمت کے لیے مایۂ رحمت و شفاعت ہیں۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی جس طرف نظر اُٹھ گئی ہر طرف الطاف و کرم کا سحابِ نور چھانے لگے گا۔ خدا نے اپنے محبوب سے وعدہ کر رکھا ہے کہ ’’آپ کو اتنا دوںگا کہ آپ راضی ہوجائیںگے‘‘ قیامت کے ہنگام میں یہی وعدہ پورا ہوگا اور محبوبِ خدا سے جو کچھ کہا گیا ہے آج اس کے ایفا کی گھڑی ہے۔ حضورﷺ سجدۂ رحمت نوازی میں سر رکھے ہوںگے۔ لبوں سے اُمتِ عاصی کے لیے دعائیں نکل رہی ہوںگی، آنکھوں سے اشکوں کی لڑیاں گر رہی ہوںگی اور یہی شفاعت طلبی بخشش و عطائے بے کراں کی ساعتوں میں ڈھل جائے گی اور حضورﷺ کو اُمتِ عاصی کی بخشش کا مژدہ یوں سنائی دے گا کہ بے چارگان ہستی خلد کے تصور سے مسکرا مسکرا اُٹھیںگے۔ محمداکرم رضا نے حضورﷺ کو عطا ہونے والے اسی اذنِ شفاعت کو سینے میں بسا رکھا ہے۔ آپ خود پر برسنے والے بارانِ رحمت کا یوں تذکرہ کرتے ہیں:
گو ہے محشر کو سوا نیزے پہ سورج کی شنید
آپ کا سایۂ رحمت بھی گھنیرا ہوگا
ہم تو محشر میں وہیں ہوںگے یقینا جس جا
شاہِ بطحا کی شفات کا پھریرا ہوگا
٭
غم کے ماروں کو سنا دینا شفاعت کی نوید
تیری اُمت حشر میں جب تجھ کو گھبرائی ملے
٭
جن کو ہنگام قیامت میں کہیں وہ اپنا
کس قدر صاحبِ تقدیس وہ انساں ہوگے
٭
اُمت عاصی کی بخشش ہے جو آقا کو عزیز
کیوں نہ پھر یہ حشر میں خالق کو بھی پیاری رہے
اور یہاں شاعر کی تمنا ایک نیا روپ اختیار کرلیتی ہے:
روزِ محشر ہم چلیں سرکار کے سائے تلے
وہ شفیع المذنبین خود قافلہ سالار ہوں

نعت گوئی کا منصب جلیلہ جس نے بھی پایا، اس نے بڑی سعادت پائی، لیکن نعت گوئی کے منصب کو جس نے ہوش مندی سے نباہا اُس نے نعت گوئی کے مقصد کی طرف پیش قدمی کی اور میں بلاخوف تردید کہہ سکتا ہوں کہ محمد اکرم رضا نے نعت گوئی کے مقصد کی طرف نہ صرف پیش قدمی کی ہے بلکہ نعت گوئی کے معیارات قائم کرنے کی طرف توجہ مبذول کروا کے بعد کے نعت گو شعرا کے لیے جادۂ رہنمائی بھی بنا دیا ہے۔ میں ’’توفیقِ ثنا‘‘ جیسے جہت ساز نعتیہ مجموعے کا کھلے دل سے استقبال کرتا ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ نئی اردو نعت کے فکری و فنی خدوخال اُجالنے کی کوشش و کاوش میں یہ مجموعہ ایک اور قدم ثابت ہوگا۔ ان شاء اللہ!
{٭}

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے