عاصی کرنالی کی نعت شناسی

عاصی کرنالی کی نعت شناسی

ِپروفیسر محمد اکرم رضا۔ گوجرانوالہ


عاصی کرنالی کی نعت شناسی


عاصی کرنالی بلند پایہ ادیب اور بلند فکر شاعر تھے۔ نثر کی جانب آئے تو یہاں بھی سکّہ جما لیا۔ تحقیق کا رُخ کیا تو پی ایچ۔ ڈی کی ڈگری کو ذہن و فکر کا مدعا بنا لیا۔ جب نعت گوئی کی وادئ نور میں قدم رکھا تو ان کا انداز ہی اور تھا۔ ویسے ہی حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے حوالے سے دل آویز سراپا رکھتی ہے۔ شاعر وجد آفریں فضائوں میں کھو کر نعت لکھتا ہے تو ان کی نعت نگاری سے قارئین فکری اور نظریاتی لحاظ سے جن کیفیات سے دوچار ہوتے ہیں اسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا فقط محسوس کیا جاسکتا ہے۔ عاصی کرنالی کی نعتوں میں آسمانِ عقیدت سے رم جھم اُترتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ دل کش الفاظ، صنوبار مصرعے اور دعوتِ نظارگی دیتے ہوئے اشعار جب یہ جامعیت کا لبادۂ نور اوڑھ کر نعت مرصع کی صورت میں مکمل نعت کی جلوہ کاری میں سامنے آتی ہے تو ایسا لگتا ہے جیسے آسمان پر سجتے ہوئے دھنک رنگوں نے کاغذ کے صفحات پر دوامی تب و تاب کی خلعت اوڑھ لی ہے۔ ان کی نعتوں میں تغزل کی سحرکاری بطورِ خاص اپنا وجود منواتی نظر آتی ہے۔ شبستانِ ہوش سے نعت کے گلستان کی زینت بننے والی نعت خودبخود حسن دوام سے آشنائی حاصل کرلیتی ہے۔ عاصی کرنالی کے ہاں یہی لفظی جمال آفرینی تغزل کے گل و لالہ سے افکار کو معتبر کرتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔
ان کی ایک نعت کے خدوخال ہی جداگانہ ہیں۔ اس میں مکالماتی حسن جلوہ ریز نظر آتا ہے۔ اس میں اپنی زبان سے مکالمہ ادا کرتے ہیں۔ کبھی ذہن، کبھی زبان، کبھی قلم، کبھی شعور اور کبھی دل سے محو کلام ہوتے ہیں۔ چوںکہ ہمارے پیش نظر عاصی کرنالی کی نعت شناسی ہے اس لیے ہمیں بجا طورپر اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ ایک ہی شعر کے پہلے مصرع میں حضور سے دل و دماغ کے حوالے سے ہم کلام ہوتے ہیں جب کہ اس شعر کے دوسرے مصرع میں جواب بھی سنتے ہیں۔ مختصر جگہ پر بڑی سی بڑی بات کا ظہور عاصی کرنالی کی نعت شناسی کا انتہائی روشن پہلو ہے۔ ملاحظہ فرمایئے:

ثنائے خواجہ میں اے ذہن! کوئی مضموں سوچ
جناب وادئ حیرت میں گم ہوئی کیا سوچوں
زبان مرحلہ مدح پیش ہے، کچھ بول
مجالِ حرفِ زدن ہی نہیں ہے کیا بولوں
قلم! بیاضِ عقیدت میں کوئی مصرع لکھ
بجا کہا! سرِ تسلیم خم ہے کیا لکھوں
شعور! ان کے مقامِ پیمبری کو سمجھ
میں قیدِ حد میں ہوں، وہ بے کراں ہیں کیا سمجھوں
دل! ان سے حرفِ دعا، شیوۂ تمنا مانگ
بلا سوال وہ دامن بھریں تو کیا مانگوں
محبتِ رسول بلاشبہ ذکر و فکرِ نعت کا لاشعوری پہلو ہے۔ عاصی کرنالی اس حقیقت سے آگاہ ہیں کہ نعت شناسی سے مقصود فقط نعت کہنا ہی نہیں بلکہ اس کا حقیقی مقصد نعت کے تقاضوں کو سمجھنا اور قارئین کو سمجھانا ہے۔ جو شخص خود سمجھنے پر قادر نہ ہو وہ اوروں کو کیا سمجھائے گا۔ عاصی کرنالی کا شمار ان خوش بختوں میں ہوتا ہے جنھیں ربّ کریم نے نعت کی شستگی اور وارفتگی وافر انداز میں بخشی ہے۔ اس کا اندازہ ان کی نعت کے حوالے سے نثریہ تحریروں سے بخوبی ہوتا ہے۔ مجلہ ’’نعت رنگ‘‘ کے شمارہ:۹ میں ’’حمدو نعت کی روایت کے چند اساسی محرکات اور ان کے فروغ کی عملی صورتیں‘‘ کے عنوان سے ان کے ایک پیراگراف کا انداز دیکھے۔ پہلے حمد الٰہی کا ذکر کرتے ہیں۔ ربّ العالمین کے انوارِ قدسیہ اور برکاتِ بے بہا کے بارے میں اظہارِ خیال کرتے ہیں پھر نعت کے محرکات کا جائزہ لیتے ہیں۔ الفاظ کا حسن دیکھیے اور فقرات کی صداقت آمیز جذباتیت دیکھیے:
قرآن حکیم جہاں اللہ تعالیٰ کا حمدنامہ ہے۔ وہیں رسولﷺ کا قصیدہ بھی ہے بے شمار آیاتِ بینات نبی آخرالزماں کی توصیف سے پُر ہیں۔ ان کی سیرتِ اقدس کا تعارف نامہ ہیں۔ ان کی نبوت و ہدایت کا نصب العین ہیں۔ قرآن حکیم کے بعد خود حضور کی احادیث مقدسہ ان متنوع موضوعات و مضامین سے معمور ہیں جو فضائل نبوت اور مقاصد جلیلۂ رسالت کی نشان دہی کرتی ہیں۔٭۱

خدا اور رسولِ خداﷺ سے رشتہ کی پختگی کے حوالے سے یوں رقم طراز ہیں:
رسالت سے ایک مسلمان کا رشتہ جتنا محکم ہوگا خدا سے بھی اسی قدر ہوگا۔ لیکن نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام سے رشتۂ عقیدت و اطاعت کا اضمحلال اللہ سے ہماری محرومی و خسران کا موجب ہوسکتا ہے۔ رسالت ہی کے رابطے سے اللہ تک رسائی اور تقرب و رسائی ممکن ہے۔ شرک و بدعات سے ہمارا تحفظ اور ہماری بریت اور توحید سے ہمارا ربط محکم رسالت ہی کا مرہونِ منّت ہے۔ اُمت مسلمہ کی فتوحات، ان کا علمی و تہذیبی ارتقا، اقوامِ عالم پر ان کا غلبہ و حکومت، سب توقیرات و اعزازات کی اساس عشق و اطاعت رسول اللہ پر استوار ہے۔ اُمتِ رسول جب غلبہ و حکومت کے ادوار سے گزرتی ہے تو اُس کا قلب شکرگزار اور سپاس گزار ہوتا ہے۔ رہبرِاعظم ہادئ مکرم اور رسولِ رحمت کا جن کی اطاعت و تقلید نے اس اُمت کو ظفریاب اور ثمرآور کیا اور جب یہ اُمت اپنے عہد انحطاط اور زبونی سے گزرتی ہے تو نہایت تضرع اور عجز و انکسار کے ساتھ مرکز رسالت کی جانب رجوع کرتی ہے۔ اپنی خفت و ندامت کا اظہار ان کی بارگاہِ اقدس میں کرتی ہے اور ان سے عاجزانہ التماس کرتی ہے کہ حضورﷺ اس استغاثے کو بارگاہِ الوہیت تک پہنچا دیں اور اُمت کے لیے دعا فرمائیں:
اے خاصۂ خاصانِ رُسل وقتِ دعا ہے٭۲
نعت کے حوالے سے عالی کرنالی اپنے ذوقِ تحقیق کو ہوا دیتے ہیں ان کی نعت شناسی انھیں یہ احساس بخشتی ہے کہ وہ یہ جائزہ لیں کہ نعت کب سے کہاں اور کب تک محوِ سفر رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے:
جہاں تک نعت رسولﷺ کا موضوع ہے یہ موضوع زیادہ تر عرب کے حوالوں اور تلازموں کے ساتھ ہی اُبھرتا اور پھیلتا رہا ہے۔ اس موضوع کے مضامین کا تنوع بالعموم عرب ہی کے دینی، جغرافیائی تاریخ اور تہذیبی ساز و سامان کے ساتھ نعت گوئی کو آراستہ کرتا رہا ہے۔ حضورﷺ کی بعثت عرب میں ہوئی۔ وہیں حضور کی تعلیمات و ارشادات کی روشنی پھیلی۔ وہیں حیاتِ طیبہ بسر ہوئی۔ حضو رکی سیرتِ مقدسہ کے آثار و برکات نے انھی قضائوں کو معطر کیا۔۔۔ حضورﷺ کی سیرتِ مبارکہ اسوۂ حسنہ اور تعلیماتِ ہدایت سے تمامِ عالم انسانیت فیض یاب ہوا۔٭۳

اگلی سطر میں عاصی کرنالی لکھتے ہیں:
لیکن نعت گوئی کا اساسی مواد وہی رہا۔ البتہ عرب سے باہر آکر نعت گوئی زبانِ عربی کے علاوہ دوسری زبانوں میں ہوئی اور ہر جگہ کا اتنا ہی مقامی اثر قبول کیا جتنا اس کے اساسی مواد میں جذب ہونا ممکن تھا۔۔۔۔ جنوبی پنجابی میں حمد و نعت اور دینی شاعری عہدہائے قدیم سے جاری تھی۔ یہ علاقہ صوفیائے عظام کا مولد و مسکن اور قیام گاہ رہا ہے۔ اس لیے یہاں کی سوچ اور اظہار میں متصوفانہ طرز سرایت کیے رہی۔٭۴
ہم نے زیرنظر مضمون میں عاصی کرنالی کے طویل مقالات سے چند سطور درج کی ہیں۔ اس وقت ان کا ایک مضمون ہمارے پیش نظر ہے۔ نعت پر تنقید (دوسرا رُخ) اس مضمون سے بہت سوں کو اختلاف بھی ہوسکتا اور بہت سے سخن شناس عشقِ حضورﷺ کے عقیدت کے دریا میں غوطہ زنی کرتے ہوئے۔ محبتِ رسولﷺ کی چوکھٹ پر بیٹھے رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ ہمارا موضوع چوںکہ عاصی کرنالی کی نعت شناسی ہے اس لیے ہم ان کے مضمون سے اس حوالے سے چند سطور نذرِ قارئین کرتے ہیں۔
نقاد کو کبھی یہ طے نہیں کرنا چاہیے کہ جو کچھ اُس نے لکھ دیا ہے وہ قطعی ہے۔ حرفِ آخر ہے۔ قولِ فیصل ہے۔ عدالتی فیصلہ ہے۔ ادب میں رائے زنی ہوتی ہے محاکمہ نہیں۔۔۔۔ نقاد کی رائے میں کوئی جھول اور خامی بھی ہوسکتی ہے۔ اس لیے ان کی تنقید پر کوئی ردّعمل ہو اور کوئی اختلافی رائے سامنے آئے تو اسے عالی ظرفی کے ساتھ قبول کرکے اپنی رائے پر نظرثانی کرلینی چاہیے۔

تنقید کرتے وقت جدباتیت اور غصے جیسی کیفیت پر قابو پانا چاہیے۔ اگر کسی نعت گو کے یہاں کوئی (واقعی) خامی پائے تو اسے بے علم، بے خبر، گم راہ اور کج رو جیسے القاب سے نہ نوازے۔۔۔۔ خدا رحیم و کریم ہے اور عفو و درگزر اس کی صفت ہے۔ ہم وعید سناتے رہ جائیں اور وہاں سے پروانۂ بخشش جاری ہوجائے۔ واللہ اعلم بالصواب۔٭۵
نعت پر تنقید وقت کی ایک نہایت اہم ضرورت ہے۔ یہ امر خاص طور سے یاد رکھنے کے قابل ہے کہ جتنا نازک کام نعت نگاری کا ہے اس سے بھی نازک تر کام نعت پر تنقید ہے۔٭۶
نعت کے حوالے سے ایک اور مقام پر عاصی کرنالی کا انداز ملاحظہ فرمایئے جس سے ان کی نعت شناسی کا حسن اُجاگر ہورہا ہے۔ کہتے ہیں:
پھر ایک دن یوں ہوا کہ میں نے نعت کا ایک شعر کہا۔ مجھے یوں محسوس ہوا جیسے ایک کرن میرے دل سے جست لگا کر میری نوکِ قلم پر چپک گئی ہے اور وہاں سے سطحِ کاغذ پر منتقل ہوگئی ہے۔ مجھے اپنے دل سے کاغذ تک ہر شے سچ لگی۔ تب ایک نعت، دو نعتیں، حتیٰ کہ ایک مجموعہ تیار ہوگیا جو مدحت کے نام سے چھپا اور اب دوسرا مجموعہ ’’نعتوں کے گلاب‘‘ ہدیۂ نظر ہے اس سارے تخلیقی عمل (نعت گوئی) میں یوس محسوس ہوتا رہا جیسے میرے سارے جذبے سچے ہیں۔ ساری سوچ سچی ہے۔ سارے حروف سچے ہیں۔ میں ایک بھرپور اور پُراعتماد سچ میں ملفوف ہوں۔ ازلی اور ابدی سچائیوں کا کشف مجھ پر ہورہا ہے۔ ایسا صرف اس لیے ہے کہ میرے فن نے اس ہستی سے نسبت پیدا کرلی ہے جو حیات و کائنات کا سب سے بڑا سچ ہے اور ساری سچائیاں اسی کے آفتابِ ذات سے طلوع ہورہی ہیں۔٭۷

مندرجہ بالا سطور آفتاب و ماہ تاب کی کرنوں میں ڈھلی ہوئی ہیں۔ نعت شناسی اسی کا تو نام ہے کہ نعت گو ظاہری اور باطنی حقیقتوں کو اُجاگر کرتا چلا جائے۔ نعت اس کے لیے محض قلمی کاوش نہ رہ جائے بلکہ نوکِ خامہ سے جو جواہر زینت قرطاس بنیں ان کا اور ہی انفرادی، یکتا اور بے مثال انداز ہو۔ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ عاصی کرنالی کی شاعری جس قدر حسین و اجمل ہے ان کے نثرپارے بھی اتنے ہی دل کش، فکر آفریں منور اور ضوفشاں ہیں۔ اسی نعت کی تلاش نے عاصی کرنالی کے قلم و فکر کو حسن صد رنگ کا آئینہ دار بنا دیا ہے۔ اس حوالے سے ان کی ایک نعت کے دو چار اشعار کا مطالعہ کیجیے تاکہ ان کی نعت شناسی کے اوّل و آخر کے محاسنِ قدسی اُجاگر ہوسکیں۔
شرف انساں کا برھانے کے لیے آپ آئے
فرش کو عرش بنانے کے لیے آپ آئے
ہر نبوت کے لیے وقت پہ جانا ٹھہرا
آپ آئے تو نہ جانے کے لیے آپ آئے
ایک اور نعت سے ان کے قلم سے گلابوں کے مہکنے کا منظر دیکھیے:
گنبدِ خضریٰ کے صحن نور سے ہوکر شروع
لامکاں تک فرش بچھتا ہے ترے انوار کا
شہرِ طیبہ میں نظر گل پوش ہوکر رہ گئی
ہر قدم پر اک چمن کھلتا گیا دیدار کا
وہ شہِ بطحا کا روضہ وہ مری پہلی نظر
جیسے اک لمحہ میں دریا بہہ گیا انوار کا
نعت شناس کے لیے وقار صدیقی اجمیری کا یہ شعر پوری داستانِ نعت کو اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے:
آتے ہیں وقار اب تو تغزل کو پسینے
نعتِ شہِ ابرار کا وہ رنگ جما ہے
عاصی کرنالی کا دیدِ شہرِ رسولﷺ اور جلوہ ہائے مصطفیٰ کے بارے میں کہنا ہے:
ہم نے بڑھ کر جالیوں کو چھو لیا
بے بسی سے پاسباں دیکھا کیے
ان کا در ہے قبلہ گاہِ انس و جاں
قبلہ گاہِ انس و جاں دیکھا کیے
اسی حوالے سے عاصی کرنالی کا کہنا ہے۔ (بحوالہ نعت میں سراپا نگاری اور سیرت نگاری)

قرآن حضورﷺ کے حسن و جمال کی مدحت کا آئینہ دار اور حضورﷺ کے فضائل و احکامِ اخلاق کے ساتھ ساتھ حضورﷺ کی تعلیمات اور تبلیغات کے ذکر سے پُر ہے۔ وہ سراجِ منیر ہیں۔ معلّم کتاب و حکمت ہیں۔ ہادئ کل انسانیت ہیں، ان کی اطاعت ہی خدا کی اطاعت ہے۔ وہی رحمۃ للعالمین اور شافع المذنبین ہیں۔
آپ کے اوصافِ حسنہ پر بات کرنا عاصی کرنالی کے بقول ایک روحانی جہاد ہے۔ جب صورتِ رسولﷺ کی بات چھڑتی ہے تو غلام حسین شہد ملتانی یاد آتے ہیں۔ اعترافِ عقیدت کا ایک نمونہ دیکھیے۔٭۸
ان کے لب ہائے شیریں دنداں یوں جھلکارتے ہیں جیسے شفق سے پروین۔ ان کا سینہ وہ آئینہ باصفا ہے جو غبارِ کینہ سے صاف ہے۔٭۸ ہم سیّدنا حسانؓ بن ثابت اور کعبؓ بن زہیر کے اشعار کا حوالہ نہیں دے رہے کہ وہ پہلے ہی زبان زدِ عام ہیں۔ اب ہمارا فرض ہے کہ حضورﷺ کو پیغمبراسلام ہی نہیں بلکہ پیغمبر انسانیت کے طورپر پیش کیا جائے اور اُمتِ مسلمہ کے غلبہ و ظفرمندی اور عالمی امن و آسودگی اُن کی سیرتِ مقدسہ اور تعلیمات ہدایت کی زیادہ سے زیادہ تبلیغ کی جائے تاکہ تمام عالمِ انسانیت ان کے دامانِ رحمت میں سما جائے۔

مرا پیام ہے ہر قوم کو، ہر اُمت کو
مرے حضور کے در تک ضرور آجائے
مدارِ امن محمد ہیں اور کوئی نہیں
بس اتنا نوعِ بشر کو شعور آجائے
(نعت رنگ:۱۵، کراچی، ص۱۴۵، نعت میں سراپا نگاری اور سیرت نگاری)
اب ہم ایک نظر عاصی کرنالی کی شاعرانہ سرفرازی پر ڈالتے ہیں۔ اگر محبتِ رسولﷺ کے حوالے سے سوچ مبہم غیرواضح اور جذبات عقیدت سے تہی ہوں تو پھر نعت شناسی محض الفاظ کا گورکھ دھندہ اور تراکیب و استعارات کا سمجھ میں نہ آنے والا ذخیرہ بن جائے گی۔ یہاں قدم قدم پر ضرورت ہے کہ نعت شناسی کے آئینے میں صاحبِ نعت(ﷺ) کے ظاہری اور معنوی حسن کا نظارا کیا جائے۔ شاعر کا مطالعہ وسیع اور اس کا ذوقِ عشق عیوب اور خامیوں سے تہی ہو۔ وہ ہر آن مقاماتِ رسولﷺ کے قلزم ضوبار میں ڈوب ڈوب جانے کی تمنا رکھتا ہو۔ اس ضمن میں یہ اشعار ملاحظہ ہوں:
ہے جب سے ربط ترے شہر کے اُجالے سے
نگاہِ شوق سنبھلتی نہیں سنبھالے سے
خدا ہے کون! کہاں ہے خدا؟ خدا کیا ہے؟
سمجھ میں آئیں یہ باتیں ترے حوالے سے
٭
فصیلِ زیست پہ بجھتا ہوا دیا ہوں میں
منارِ نور! ترا عکس چاہتا ہوں میں
مرے حبیب مری حسرتِ نگاہ تو دیکھ
مدینہ دیکھنے والوں کو دیکھتا ہوں میں
یہ اشعار اس حقیقت کی غمازی کر رہے ہیں کہ خوش بخت عاصی کرنالی نے نعت کی تاریخ کا مطالعہ کیا اور پھر نعت لکھی تو نعتوں کے گلاب ِکھل اُٹھے۔ ان کے قلب و نظر میں الفاظ لالۂ و گل کی صورت اپنا حسن بکھیرنے لگے۔ ان کا کہنا ہے کہ انھیں پھولوں میں گلاب بہت پسند ہے اور اسی گلاب کی خوش بو ان کے نثری کمال اور شعری جمال کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ نثری جملے بھی بہار افزا ہیں اور پھولوں کی پتیاں بھی ان کی شاعری کے تھالے پر بہار بداماں بنی ہوئی ہیں۔ الارضِ طیبہ کا سفر ہو تو ہر مقام پر سینے سے سانس جدا ہوتی ہوئی محسوس ہوئی۔ یوں نظر آتا ہے جیسے تلوار کی دھار پر چل رہے ہیں۔ (بحوالہ نعت نگاری و سیرت نگاری، نعت رنگ، کراچی)

جذبِ دل کی رہ گزر ہے تیز چلنا چاہیے
یہ مدینے کا سفر ہے تیز چلنا چاہیے
دل میں سیلِ غم ہے آہستہ روی کا کیا خیال
آنکھ اشکوں کا، بھنور ہے تیز چلنا چاہیے
اب یہی آوازِ دل ہے منزلِ ما دور نیست
اب یہی سودائے سر ہے تیز چلنا چاہیے
ایک اور مقام پر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام اور اپنی ذات کو نعت کے حوالے سے یوں دیکھتے ہیں:
ایک اک دھڑکن سے پیدا ہو نوائے سازِدل
زندگی بھر نعت میں ڈھلتی رہے آوازِ دل
حاصل دیں،اصلِ ایماں، حب وطاعت آپ کی
نعت و مدحت آپ کی محبوبِ جاں دم سازِ دل
عاصی کرنالی کو پھول اور خاص طورپر گلاب کے پھول بہت پسند ہیں۔ ان پھولوں کا ذکرِ عنبر باراں کی شاعری میں خاص طورپر ملتا ہے۔ اس حوالے سے ان کا کہنا ہے:
ایک دفعہ ایک دوست نے مجھ سے پوچھا کہ کون سا پھول تمھیں سب سے زیادہ پسند ہے۔ میں نے برجستہ کہا ’’گلاب‘‘ بولے کس خصوصیت کی بنا یعنی گلاب کی کون سی کیفیت تمھیں زیادہ کھینچی ہے؟ میں تردّد میں پڑ گیا میں سوچنے لگا کہ رنگ یا خوش بو یا برگِ گل کی لطافت یا اس کی ادائے شگفتگی، یا اس کا حسنِ تناسب یا اس کی زیبائی و رعنائی۔ آخر کون سا عنصر یا وصف زیادہ کشش انگیز ہے۔ لیکن میں کچھ فیصلہ نہ کرسکا۔ میں نے دوست سے کہا کہ میں پھول کی ہر جزوی کیفیت کو پُرکشش پاتا ہوں لیکن اس کا الگ الگ تجزیہ نہیں کرسکتا۔ بس گلاب مجھے مجموعی صورت میں یا تمام اجزا کی کلیت میں بھلا لتا ہے مجھے گلاب پسند ہے۔٭۹
عاصی کرنالی کی گلابوں کی پسندیدگی نے ہی اس سے نعتیہ مجموعے کا نام نعتوں کے گلاب رکھوایا اور کتاب کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس مجموعہ نعت میں استعاراتی طورپر حضورﷺ کے حوالے سے نعت کے پھولوں نے جگہ بنا لی ہے۔ ان پھولوں کا ذکر اپنی جگہ بہت دل کش اور محبت آمیزمحسوس ہوتا ہے جس سے قلب و جان کو غیرشعوری طورپر راحت و لطافت کا احساس ہوتا ہے۔

اس کا نام لکھا ہے جس سے بزمِ امکاں ہے
جو بہارِ اوّل ہے اوّلِ بہاراں ہے
اس کا ذکر چلتا ہے جس کے نقشِ ابرو سے
نکہتیں پُر افشاں ہیں موجِ گل خراماں ہے
ڈاکٹر عاصی کرنالی کا نثری کارنامہ پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے۔ پی ایچ۔ ڈی کے اس تحقیقی مقالہ کا عنوان ’’اردو حمد و نعت پر فارسی شعری روایت کا اثر‘‘ ہے۔ یہ مجموعہ ۲۰۰۱ء میں اشاعت پزیر ہوا۔ ڈاکٹر عاصی کرنالی نے اس تحقیقی کاوش کو عظیم محقق ڈاکٹر وحید قریشی اور سراپا علم و فضل ڈاکٹر فرمان فتح پوری کے نام معنون کیا ہے۔ ڈاکٹر عاصی کرنالی انتقال فرما کر ربّ کریم اور حضور رسالت مآبﷺ کی بارگاہِ اقدس میں پہنچ چکے ہوںگے اور یقینا ان پر خدا اور رسولِ خدا کے انعامات نچھاور ہورہے ہوںگے۔ کیوںکہ انھوںنے آبِ عشق و عقیدت میں دھلی ہوئی زبان کے ساتھ نعت لکھی ہے۔ یہ تحقیقی مقالہ بھی رقم کیا تو اس کا تعلق بھی حمد و نعت سے وابستہ ہے۔ ہم اپنی عاجزانہ دعائوں کو ایک زمانہ کا ہم نوا بناتے ہوئے ان کی لحد منور کے ہر آن مہکنے کی دعا کرتے ہیں۔ ہمیں ان کے شعری اور نثری کارہائے نمایاں کو دیکھ کر بخوبی احساس ہوتا ہے کہ ارضِ مدینہ سے چلنے والی بادِ خنک انھیں شفاعت مصطفیٰ علیہ التحیۃ والثنا کا حق دار بنا چکی ہوگی۔ (ان شاء اللہ العزیز)
ایں دعا از من و از جملہ جہاں آمین باد
ان کے اشعار ان کے وقت آخریں کی کامرانی کی نوید سنا رہے ہیں:
ترا ہی عکس کیا جس نے عمر بھر میں قبول
ترا جمال سلامت وہ آئینہ ہوں میں
مرے حبیب مری حسرتِ نگاہ تو دیکھ
مدینہ دیکھنے والوں کو دیکھتا ہوں میں
عاصی کرنالی کا یہ شعر ان کی اُخروی زندگی کا روشن ترین استعارہ ہے۔ اسی پر ہم تحریر کا اختتام چاہتے ہیں:
ترے مدینے سے آگے نہ وقت ہے نہ مقام

حد زمان و مکاں اس جگہ تمام ہوئی
مآخذ
٭۱۔ مجلہ نعت رنگ، کراچی، شمارہ:۹، حمد و نعت کی روایت کے اساسی محرکات اور ان کا فروغ، ص۶۹
٭۲۔ مجلہ، نعت رنگ، کراچی، شمارہ:۱۹ ایضاً، ص۷۰
٭۳۔ مجلہ، نعت رنگ، کراچی، شمارہ:۱۴، اردو نعت کا پچاس سالہ جائزہ، ص۱۰۱
٭۴۔ مجلہ، نعت رنگ، کراچی، شمارہ:۱۴، اردو نعت کا پچاس سالہ جائزہ، ص۱۰۲
٭۵۔ مجلہ، نعت رنگ، کراچی، شمارہ۳، نعت پر تنقید، ص۳۹
٭۶۔ نعتوں کے گلاب، عاصی کرنالی کی نعتوں پر لکھی ہوئی تحریر سے اقتباس، ص۸ (تمام و ناتمام، ص۳۹۲)
٭۷۔ مجلہ، نعت رنگ، کراچی، شمارہ:۱۵، نعت میں سراپا نگاری اور سیرت نگاری، ص۱۴۱
٭۸۔ مجلہ، نعت رنگ، کراچی، شمارہ:۱۵، ص۱۴۴
٭۹۔ مجلہ، نعت رنگ، کراچی، شمارہ:۱، ص۲۸۹
{٭}

Post a comment

0 Comments