شوقِ دیدار بڑھا دیتا ہے دل کو یادوں کی ضیا دیتا ہے

شوقِ دیدار بڑھا دیتا ہے دل کو یادوں کی ضیا دیتا ہے

ارشادفاروقی تنویرؔ


شوقِ دیدار بڑھا دیتا ہے
دل کو یادوں کی ضیا دیتا ہے


مشکلیں ساری ہٹا دیتا ہے
ہم کو جینے کی ادا دیتا ہے


وہ ہے ستار مرے عیبوں کو
مہر کی اپنے ردا دیتا ہے


اس سے ملنے کی تمنا ہے اگر
اس کا قرآن پتہ دیتا ہے


تیرا محتاج یہ عاجز تنویرؔ
تجھ کو دن رات صدا دیتا ہے

Post a comment

0 Comments