ہے تیرگی جس دل میں تو نور سے چمکادے بھٹکے ہوئے بندوں کو منزل پہ تو پہنچادے

ہے تیرگی جس دل میں تو نور سے چمکادے بھٹکے ہوئے بندوں کو منزل پہ تو پہنچادے

معظم علی امجدؔ


ہے تیرگی جس دل میں تو نور سے چمکادے
بھٹکے ہوئے بندوں کو منزل پہ تو پہنچادے


معیار نہ ہو دوہرا، احکام کے تابع ہوں
اے ربِّ عُلٰی ہم کو کچھ ایسا قرینہ دے


بندوں سے یہ ترے، الفت اے قادرِ مطلق ہو
بس یہ ہی رہے مقصد اتنی سی تمنا دے


ہردل اے خدا ترے انوار سے روشن ہو
پھر جادۂ ہستی کے ہر ذرّے کو دمکادے


ہو خاتمہ ایماں پر اب یہ ہی تمنا ہے
ساحل پہ جو پہنچا دے بس ایسا سفینہ دے


اک کرب میں رہتا ہے مولا یہ تیرا امجدؔ
ہو دور مری مشکل مولا تو سہارا دے

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے