ابتدا تو ہے انتہا تو ہے دونوں عالم کا رہنما تو ہے

ابتدا تو ہے انتہا تو ہے دونوں عالم کا رہنما تو ہے

ڈاکٹربختیارنواز


ابتدا تو ہے انتہا تو ہے
دونوں عالم کا رہنما تو ہے


چاند تاروں میں نور ہے تیرا
حد امکاں ظہور ہے تیرا


غنچۂ و گل میں ہے ادا تیری
تیرگی میں بھی ہے ضیا تیری


میں ہوں کمزور اور قوی تو ہے
میں کہ محتاج اور غنی تو ہے


میرے ہستی سنوار دے مولیٰ
میرے دل کو قرار دے مولیٰ


سب کا ہے تو ہی مالک و مختار
تیرے آگے نوازؔ ہے لاچار

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے