کرتا ہوں میں نام سے تیرے یارب آلھے کا آغاز

کرتا ہوں میں نام سے تیرے یارب آلھے کا آغاز

رہبرؔجونپوری


کرتا ہوں میں نام سے تیرے یارب آلھے کا آغاز
تو ہی اس دنیا کا خالق تو ہی جانے اس کا راز
تونے ہی اک حرف کن سے کی ہے یہ دنیا آباد
تیری مرضی سے قائم ہے دانہ پانی آتش باد
تیرے آگے سب جھکتے ہیں کیا دھرتی اور کیا آکاش
تیرے حکموں کے تابع ہیں کیا افسر اور کیا فرّاش
پاکر تجھ سے نور چمکتے ہیں سورج تارے اور چاند
تو چاہے تو پڑجاتی ہے سیاروں کی تابش ماند
تیری قدرت سے ملتا ہے سب کو نعمت کا وردان
تیری رحمت سے بچھتا ہے سب کے آگے دسترخوان
تونے ہی پیدا فرمائے بحروبر اور مخلوقات
کھاتے پیتے ہیں تیری ہی رحمت سے سب حیوانات
تو ہی داتا توہی مالک تو ہی سب کا پالن ہار
تیری وحدت کا شاہد ہے سارا جگ سارا سنسار
سب سے اعلیٰ سب سے افضل تیری قدرت تیری ذات
تیری مرضی سے ہوتی ہے سردی گرمی اور برسات
تیری قدرت کے مظہر ہیں پیڑ اور پودے پھل اور پھول
تیری عظمت کے شاہد ہیں کنکر‘ پتھر ریت اور دھول
تو نے ہی تخلیق کئے ہیں زندہ رہنے کے سامان
تو ہی پیدا کرنے والا ہیرے موتی اور مرجان
تونے انسانوں کو بخشا اعلیٰ ذہن اور دل و دماغ
تونے روشن کئے جہاں میں علم و فن کے سبھی چراغ
ذرے ذرے سے ظاہر ہے تیری وحدت تیرا نور
تیرے ہی جلوئوں سے روشن ہوئی وادیٔ کوہ طور
تو ہی دیتا ہے چڑیوں کو اپنی قدرت سے پرواز
تونے ہی بخشا ہے ہم کو چلنے پھرنے کا انداز
تو ہی باسط‘ توہی قابض‘ توہی قادر اور ستار
توہی رازق‘ توہی خالق‘ توہی حافظ اور غفار
توہی پیدا کرنے والا ساکت دریا میں طوفان
تیری مرضی سے ہوتی ہے ہم سب کی مشکل آسان
سارا عالم تیرا ساجد توہی ہے سب کا مسجود
توہی واحد توہی ماجد توہی قدوس و معبود
تو جو چاہے تو پڑجائے بنجر دھرتی میں بھی جان
تو جو چاہے تو ہوجائیں جنگل باغ چمن ویران
جنّ و انس سبھی ہیں یارب تیری رحمت کے محتاج
تو ہے سارے عالم کا رب ہر شے پر ہے تیرا راج
تو حاجت مندوں کی حاجت سے ہے ہر لمحہ آگاہ
رہبرؔ تجھ سے مانگ رہا ہے بھیک سخن کی اے اللہ

Post a comment

0 Comments