پایا نہ جب سہارا اے دوجہاں کے مالک میں نے تجھے پکارا اے دو جہاں کے مالک

پایا نہ جب سہارا اے دوجہاں کے مالک میں نے تجھے پکارا اے دو جہاں کے مالک

بہزادؔلکھنوی


پایا نہ جب سہارا اے دوجہاں کے مالک
میں نے تجھے پکارا اے دو جہاں کے مالک


مغموم ہوں بدل دے اب تو مسرتوں سے
تقدیر کا ستارا اے دو جہاں کے مالک


طوفاں کی تیزیوں میں جب ڈگمگائی کشتی
تو نے دیا سہارا اے دوجہاں کے مالک


مخلوق کی اذیت مخلوق کی مصیبت
تجھ کو ہے کب گوارا اے دوجہاں کے مالک


گر دور نا خدا ہے شامل تری عطا ہے
ہر موج ہے کنارا اے دوجہاں کے مالک


حقا ہمارے بگڑے کاموں کو ہے بناتا
ادنیٰ ترا اشارہ اے دوجہاں کے مالک


دنیائے بندگی میں بہزادؔ نے ہمیشہ
سجدہ تجھے گزارا اے دو جہاں کے مالک

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے