نہ مجال ہے نہ شعور ہے تری کیسے حمد و ثنا کروں

نہ مجال ہے نہ شعور ہے تری کیسے حمد و ثنا کروں

جناب ریختہ پٹولی، ضلع مظفر نگر(یوپی)


نہ مجال ہے نہ شعور ہے تری کیسے حمد و ثنا کروں
تو کرم سے اپنے نواز دے تو میں یہ فریضہ ادا کروں
ترا نام جلّ جلالہ‘ تری شان عمّ نوالہ‘
سبھی اہل زر ہیں ترے گدا‘ تو سوال ان سے میں کیا کروں
مہ و سال تیرے اسیر ہیں شب و روز تیرے غلام ہیں
ترے زیر حکم ہیں گردشیں تو پھر ان سے خوف میں کیا کروں
تو ہی مدعائے خلیل ہے‘ تو ہی منتہائے کلیم ہے
تو ترائے کشتیٔ نوح کو تو میں کیوں نہ تجھ سے دعاء کروں
یہ زمین و کوہ و شجر و حجر‘ یہ نجوم و شمس و قمر وفلک
ترا ذکر کرتے ہیں سب کے سب تو میں کیوں نہ ذکر ترا کروں
یہی ریختہؔ کی ہے التجا کہ تو عشق اپنا نصیب کر
مرے دل میں ہو ترا غم‘ شبوں کو میں شمع بن کے جلا کروں

Post a comment

0 Comments