تو اپنی حمد کا اسلوب انتخابی دے مرے خدا مجھے اندازِ بوترابی دے

تو اپنی حمد کا اسلوب انتخابی دے مرے خدا مجھے اندازِ بوترابی دے

بے کلؔ اتساہی


تو اپنی حمد کا اسلوب انتخابی دے
مرے خدا مجھے اندازِ بوترابی دے


ہے سامنے ابھی الحاد کا درخیبر
طفیل شیر خدا عزم کامیابی دے


مجھے وہ ذرہ بنا جو کفِ علیؓ میں ہے
جہاں میں چمکوں وہ کردار انقلابی دے


ترے حبیب کی توصیف میں رہوںبیکلؔ
علی کے در کی چھنی ہو وہی گلابی دے

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے