خیرہ ہر ایک دیدۂ اہل شعور ہے کثرت میں جلوہ ریز یہ وحدت کا نور ہے

خیرہ ہر ایک دیدۂ اہل شعور ہے کثرت میں جلوہ ریز یہ وحدت کا نور ہے

سر محمد اسماعیل علی خاں صاحب بہادر تاجؔ


خیرہ ہر ایک دیدۂ اہل شعور ہے
کثرت میں جلوہ ریز یہ وحدت کا نور ہے
ہر صبح سے جمال کا تیرے ظہور ہے
ہر شام میں چھپا ہوا تیرا ہی نور ہے
یہ جو خطا سے پہلے ہی عفو قصور ہے
لا ریب سب یہ تیرے کرم کا ظہور ہے
سب تیرے ہی جمال کی جلوہ نمائیاں
پھولوں میں رنگ و بو ہے ستاروں میں نور ہے
اے محو شوق دید کدھر ہے ترا خیال
آنکھوں میں ہے جو نور یہ کس کا ظہور ہے
ہیں بے شمار اہل معاصی چھپے ہوئے
کتنا وسیع دامن عفو و غفور ہے
اے تاجؔ کیسے یاد محمدﷺ کو چھوڑ دوں
دل کا سرور ہے مری آنکھوں کا نور ہے

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے