مشہور ہو رہا ہے عز و جلال تیرا جاری ہے ہر زباں پر قال و مقال تیرا

مشہور ہو رہا ہے عز و جلال تیرا جاری ہے ہر زباں پر قال و مقال تیرا

سید علی حسین اشرفی میاں


مشہور ہو رہا ہے عز و جلال تیرا
جاری ہے ہر زباں پر قال و مقال تیرا
تو پردۂ تعین رخ سے اگر اٹھا دے
عالم کو محو کردے حسن و جمال تیرا
آنکھوں میں عاشقوں کی، شکلوں میں مہ رخوں کی
جلوہ دکھا رہا ہے یہ خط و خال تیرا
گاہے بشکل ممکن، گاہے برنگِ واجب
نظارہ ہورہا ہے اے با کمال تیرا
نظروں میں اہل دل کی کثرت ہے عینِ وحدت
ہر حال میں ہے حاصل قرب و وصال تیرا
مل جائے جام وحدت گر واعظا! تجھے بھی
مٹ جائے تیرے دل سے یہ قیل قال تیرا
جب تجھ میں اشرفیؔ ہے اور اشرفیؔ میں تو ہے
پھر کیا سمجھ میں آئے ہجر و وصال تیرا

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے