ata aashana ‏>sayed ‎fazil ‎mysuri

ata aashana ‏>sayed ‎fazil ‎mysuri

عطا آشنا

صنفِ نعت ادب کی ایک ایسی لازوال صنف ہے جس کی عظمتوں کا بیاں نطقِ انسانی کی قید سے ماورا ہے. معبودِ حقیقی عزوجل نے ممدوحِ کائنات صلی اللہ علیہ کی نسبت کے سبب اس صنف کو وہ آفاقیت و ابدیت دی ہے کہ اس کے مقابل در حقیقت دیگر اصناف سورج کے مقابل چراغ کی مثل ہیں. اسی صنفِ خورشید نظیر کی تابانیوں سے اپنا حجرۂ فن اجالنے والے نہایت خوبصورت لہجے کے شاعر محترم قمر آسی صاحب کے نعتیہ مجموعے "عطا" کا مسودہ موصول ہوا. میں نے حیرت و مسرت کے امتزاجی کیف کے ساتھ مجموعے کا عنوان تا صفحۂ آخر مطالعہ کرنے کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا کہ قمر آسی نے خورشیدِ نعت کے دیرپا انوار اپنے باطن میں جذب کیے ہیں اور انہیں بڑے شستہ قرینے سے جامۂ حرف عطا کیا ہے. ان کا یہ نعتیہ مجموعہ اسم بامسمیٰ ہے. جہاں نعت کے لیے مشاقی و ریاضت ادراکِ شرع و شعر پاسِ ادب آداب چاہیے وہیں عنصرِ لازمی عطا ہے جس کے بغیر نعت کے ظہور کا امکان محال ہے جیسا کہ وہ خود کہتے ہیں - 

فقط کرم ہے یہ ان کا کہ نعت ہوتی ہے
وگرنہ کیا مری وقعت ہے کس شمار میں ہوں

زبان و بیان پر قدرت, لہجے کی سلاست, اظہار کی سہولت, قرآن و احادیث سے استفادہ, واقعاتِ اسلامی کا استشہاد وغیرہ اظہار کی جن جہتوں سے نعت کا شعر آفاقی بنتا ہے وہ ساری جہتیں اس مجموعے میں جگہ جگہ اپنے جلوے بکھیر رہی ہیں. بالخصوص رنگِ تغزل نعت کے زاویے میں اس قدر معتدل ہے کہ شاید و باید. اساتذہ کی ایسی کئ مثالیں ہیں کہ اچھا غزل کہنے والا جب خانقاہِ نعت کا دریوزہ گر بنتا ہے تو بامِ رفعت پہ پہنچ جاتا ہے. قمر آسی جہاں ایک طرف غزل کے جدید خاکوں میں رنگ بھرتے نظر آتے ہیں وہیں دوسری طرف گلشنِ نعت کے غنچوں سے رنگ و خوشبو کشید کرتے دکھائی دیتے ہیں.

سب پھول محوِ رقص ہیں غنچے ہیں مشک بار
کیسا سدا بہار گلستانِ نعت ہے

 نعت کی تبلیغ و ترویج کا فی زمانہ ایک مؤثر ترین ذریعہ سماجی رابطے کی ویب سائٹس ہیں. قمر آسی نے اس ذریعے کو بھی نعت کے ابلاغ کے لیے خوب برتا. فیس بک وغیرہ پر ہونے والی نعتیہ سرگرمیوں میں پیش پیش رہتے ہیں جو ان کے حساس خادمِ نعت ہونے پر دال ہے. چند ایک احباب جن کی نعتیں پڑھنے کی خواہش رہتی ہے ان میں آسی صاحب بھی ایک ہیں. حق تو یہ تھا کہ اس مجموعے پر تفصیلی مضمون لکھتا اور کوشش کرتا کہ قمر آسی کے یہاں نعت کا شعر جن جن مراحل سے گزر کر مسندِ شہود پر آتا ہے ان پر بتدریج اپنی گزارشات پیش کرتا مگر اپنی ذاتی مصروفیات اور بے بضاعتی کم علمی کے سبب بس اتنا ہی کچھ عرض کر سکا. آخر میں ان کے مجموعے سے کچھ شعر جس نے یک لخت مجھے لذت آشنا کیا درج کر رہا ہوں.

بعد ازاں خود کو نبی جس نے کہا کذاب ہے
آپ پر اس سلسلے کی انتہا جب سے ہوئی
اس نور کے آنے سے ہوا دور اندھیرا
اس پھول کی آمد سے چمن شاد ہوا ہے
بے عدد بخشی ہیں ہم کو رب نے اپنی نعمتیں
بھیج کر جس کو جتائی مہربانی وہ رسول
ان کی نسبت سے سبھی احباب ہیں
وہ نہیں تھے تو مرا کوئی نہ تھا
جب سے پڑھتا ہوں میں درود ان پر
میری سانسوں میں اضطراب نہیں
ملتا ہے کسے اذنِ قدم بوسئ سرکار
دم سادھے ہوئے سارے شجر دیکھ رہے ہیں
حضور آپ کے جیسا شفیع ہوتے ہوئے
کسی کی سمت نہ جائیں گے ہم اماں کے لیے
نوعِ بشر کو بعثتِ احمد سے ہی ملا شرف
اشرف نہ ہوتے آدمی ان کے ظہور کے بغیر

یوں تو جناب قمر آسی کے اس مجموعے کی ہر نعت میں ایسے اشعار موجود ہیں جنہیں خصوصی طور پر مندرج کیا جائے. ان شاء اللہ باذوق قارئین از خود دورانِ مطالعہ ان سے محظوظ ہونگے. میں آخر میں دعا گو ہوں کہ مولیٰ کریم محترم قمر آسی صاحب کے اس مجموعۂ نعت کو قبولیتِ تامہ و شہرتِ عامہ نصیب کرے اس کتاب کا ایک ایک شعر شاعر کے لیے توشۂ آخرت بنے. آمین بجاہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

فاضل میسوری

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے