Prof Munazir Aashiq Harganavi Ki Naatiya Shayeri

Prof Munazir Aashiq Harganavi Ki Naatiya Shayeri


پروفیسر مناظر عاشق ہرگانوی کی نعتیہ شاعری


سعید رحمانی 

پروفیسر مناظر عاشق ہرگانوی کی ہمہ جہت شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں۔عصر حاضر کی صف اول کے قلمکاروں میں انھیں اس لیے اختصاص حاصل ہے کہ زود گوئی اور بسیار نویسی کے ساتھ ساتھ کثیر التصانیف بھی ہیں۔اب تک ڈیڑھ سو سے بھی زیادہ کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔ اس کے علاوہ ان کی شخصیت ‘فکر و فن اور ادبی خدمات کے اعتراف میں ۱۵؍ کتابیں منظرِعام پر آکر اہل ادب سے خراج حاصل کر چکی ہیں۔ اس ضمن میں ناچیز کا خیال ہے کہ اب تک اُردو کے کسی شاعر یا ادیب پر غالباً اتنی تعداد میں کتابیں نہیں لکھی گئی ہیں ۔یہ بھی اپنے اندر ایک ریکارڈ ہے۔
شعروادب‘ نقدو تحقیق اور صحافت میں انھوں نے اپنی بصیر ت و بصارت کی جو بلند سطح قائم کی ہے اس کی مثال بہت کم دیکھنے کو ملتی ہے۔خصوصاً ’’کوہسار جنرل‘‘کے ذریعہ اردو میں نئی نئی اصناف کے تجربوں کو فروغ دینے میں ان کی خدمات کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔اس رسالے کے ذریعہ متعدد نئی اصناف کا اضافہ ہوا ہے اور ان کی تحریک پر بیشتر شعرا ان اصناف میں طبع آزمائی بھی کر رہے ہیں۔
خوشی کی بات ہے کہ اب انھوں نے تقدیسی شاعری کی جانب اپنی توجہ مبذول کی ہے اور بہت ہی قلیل عرصہ میں نعوت پاک کا وافر ذخیرہ بھی کر لیا ہے جس کی تصدیق زیر نظر نعتیہ مجموعہ ’’ہر سانس محمد ؐپڑھتی ہے‘‘ سے کی جاسکتی ہے۔’’ گفتنی‘‘ کے تحت انھوں نے قرآن پاک کی مختلف سورتوں کا حوالہ جس تفصیل سے دیا ہے اس سے صاف ظاہر ہے کہ وہ نہ صرف قرآن کا گہرا علم رکھتے ہیںبلکہ شریعتِ مطہرہ پر بھی ان کی نظر ہے۔یہ علم نعت گوئی کے لیے لازمی ہے ورنہ نعت جیسی مشکل صنف میں قدم قدم پر بہکنے کا خطرہ رہتا ہے۔
صنفِ نعت جہاں شاعر کے جذبوں کی آئینہ دار ہوتی ہے وہیں عشقِ رسول کے والہانہ اظہار کا وسیلہ بھی ہے اور یہی توشۂ آخرت بھی بنتی ہے۔اس بات کا اعتراف کرتے ہویے میر تقی میرؔ نعت کو ایک اہم صنف تسلیم کرتے ہیں اور ہر دیوان یا مجموعہ کے لیے اسے لازم و ملزوم بھی قرار دیتے ہیں ۔اس بات کا بھرپور اعتراف ان کے اس شعر میں ملاحظہ کریں۔
جلوہ نہیں ہے نظم میں حسن ِقبول کا
دیواں میں شعر گر نہیں نعت رسول کا
یہی وجہ ہے کہ حصولِ سعادت کی غرض سے آج کل تقریباً ہر شعر ی مجموعہ کی ابتداحمد و نعت سے کی جارہی ہے جو ایک قابل تحسین بات ہے۔ 
مجموعے کا نام ’’ہر سانس محمدؐ پڑھتی ہے‘‘خود اس بات کا گواہ ہے کہ پروفیسر مناظر صاحب عشقِ رسول سے نہ صرف سرشار ہیں بلکہ ذکرِ رسول کو اپنی سانسوں کا وظیفہ بھی بنا لیا ہے۔اس میں دو رایے نہیں کہ مناظر صاحب ناقد‘ محقق‘ مبصر اور صحافی ہوتے ہویے بھی شاعری کے جملہ لوازمات سے بخوبی آشنا ہیں۔ا سی لیے ایک جگہ رقمطراز ہیں ’’شاعری کا اسلوب ‘طہارت اور جذبے کی بنیادی ہمکاری اور مختلف تخلیقاتی مراحل سے گزر کر ایک ایسے نقطۂ ارتکازتک پہنچاتی ہے جہاں حسن اور وجدان کی آمیزش سے صوتی ڈھانچے ما ورائی معنی سے ارتباط پیدا کر کے نغماتِ سرمدی بن جاتے ہیں‘‘۔اس بات سے اتفاق کرتے ہویے اس میں اتنا اضافہ کرنا چاہوں گا کہ خصوصاً نعتیہ شاعری کے لیے شاعرانہ رویہ بے حد ضروری ہے جو تخلیقی قوت‘جذبے کی صداقت اور زندگی کی حرارت سے پیدا ہوتا ہے اور یہی وصف نعتیہ شاعری میں نہیں کے برابرہے۔ چنانچہ اچھی نعتیہ شاعری تو ہو رہی ہے مگر بڑی شاعری اب تک وجود میں نہیں آسکی ہے۔نعتیہ شاعری میں سپاٹ لہجے کی بجایے اگر استعاراتی پیرایہ اپنایا جایے تو اس میں معنوی گہرائی کے ساتھ ساتھ تہہ داری بھی آیے گی۔چراغ بطور استعارہ کا استعمال مندرجہ اشعار میں ملاحظہ ہوں:
     وہ ایک رات چراغاں ہوا زمانے میں
   ہوا بھی ہو گئی شامل دیے جلانے میں              (محشر بدایونی)
    جلوؤں سے جس کے دونوں جہاں جگمگا اٹھے
کس نور کا چراغ یہ کعبہ میں جل گیا             (مرزا مائل دہلوی)
 یہ دوونوں شعر آنحضرت ﷺ کی بعثت پر بطور اظہار مسرت کہے گیے ہیں مگر استعاراتی پیرایے کی بدولت ان کا حسن دو بالا ہو گیا ہے۔
بہر کیف آج کل جو نعتیں کہی جا رہی ہیں ان میں شعری محاسن بلا شبہ لائقِ تحسین ہیں۔پھر جدید لب و لہجہ نے آج کی نعتیہ شاعری کو نیا لباسِ فاخرہ بھی عطا کیا ہے۔زیر نظر مجموعہ میں شامل نعتوں کے مطالعہ سے یہ بات ابھر کا سامنے آتی ہے کہ منظر صاحب ایک سچے اور پکے مسلمان ہیں۔اپنے دل میں اللہ کے تئیں جذبۂ بندگی اور اللہ کے رسول حضرت محمدﷺ سے دلی وا بستگی رکھتے ہیں۔اور جب محبت اور عقیدت کی خوشبوؤں سے معطر لفظوں کے ذریعہ معنی کے گل بوٹے کھلاتے ہیں تو ان کے نعتیہ اشعار قاری کے مشام جاں کو مہکانے لگتے ہیں۔ سرکار دو عالمﷺ کے مقام و مرتبہ کی شوکت و عظمت‘ اوصاف حسنہ‘خوش خلقی ‘عفوو در گزر اور پر کشش شخصیت پر مبنی ان کے مندرجہ ذیل اشعار ملاحظہ فرمائیں:۔
ہر شئے میں ان کا نام ہے اس کائنات کی۔خلقِ خدا سے رشتہ ہے کیسا حضور کا
امام الانبیا ء فخر رسل ہے ذات ان کی۔کہ ان کے جیسا محبوبِ خدا کوئی نہیں
 وہ جس کے دور نے دورِ جہاں بدل ڈالا۔زمیں کا ذکر ہی کیا آسماں بدل ڈالا
مثال ایسی نہیں تاریخ میں کوئی ہے اب تک۔کہ بخشی دشمنوں کو آپ نے جیسی اماں ہے
قاتل سے کوئی پوچھے‘بسمل وہ بنا کیسے۔شمشیر بدست آیا اور شاہ پہ قرباں ہے
یوں تو یہ سبھی اشعار شانِ محمدؐ کی واضح تصویر پیش کرتے ہیںمگر آخری شعر میں بلا کی تہہ داری ہے اور معنوی گہرائی بھی جو حضرت عمر فاروق ؓ کی تالیف قلب کا اشاریہ ہے۔
سرکار دو جہاں ؐ سے عقیدت و محبت کا جذبہ ہر سچے مسلمان کے دل میں بدرجہء اتم موجود ہوتاہے۔اس ضمن میں مناظر صاحب کی سرشارانہ کیفیت ملاحظہ ہو:
اس زندگی کا مقصد اعلیٰ دکھائی دے ۔وقتِ اجل حضور کا جلوہ دکھائی دے
وابستہ در سے خود کو مناظرؔ نبی کے رکھ۔اس درس گہہ کا ادنیٰ بھی اعلیٰ دکھائی دے
غلامی ٔغلامانِ نبی سے کامراں ہوں گے۔محمدؐ کے گھرانے سے عقیدت کام آیے گی
جس کے دل میں نبیٔ آخر الزماں ؐ کاعشق جا گزیں ہو وہ شہرِ نبی کا بھی دیرینہ عاشق ہوتا ہے اور اس کے دیدار کے لیے اپنے دل میں مسلسل تڑپ محسوس کرتا ہے۔یہی حال مناظر صاحب کا بھی ہے ۔یہی عشقِ رسول اور دیدارِ مدینہ کی تڑپ کا جذبہ ہے جس کی بنا پر وہ نعت گوئی کی طرف مائل ہویے اور ساتھ ہی حجِ بیت اللہ کا ارادہ بھی کر لیا۔یہ چند اشعار ان کے جذبِ دروں کا اظہاریہ ہیں۔ملاحظہ ہو:
اللہ مناظرؔکو دکھا شہر نبی تو
ڈھلنے لگا اشکوں میں مدینے کا تصور
چلا ہوں لے کے نذرانہ بس اتنا 
کہ آنکھیں نم ہیں‘کچھ دامن بھی تر ہے
ان اشعار کی روشنی میں وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی یہ دعا قبول کر لی ہے اور جب یہ تحریر آپ پڑھ رہے ہوں گے مجھے امید ہے کہ مناظرؔ صاحب نے حجِ بیت اللہ کی سعادت حاصل کرلی ہو گی۔اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ دیدارِ مدینہ کی آرزو ان کے دل کی آواز تھی جسے اللہ تعالیٰ نے شرفِ قبولیت بخشا۔
اس میں شک نہیں کہ نعت گوئی ایک مشکل صنف ہے ۔اس کے لیے اولین شرط یہ ہے کہ الوہیت اور نبوت میں حدِ فاضل قائم رہے اور اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ جیسی عظیم ہستی اپنے محبوب کی ثنا خواں ہو تو پھر ایک ادنیٰ بشر میں کہاں یہ مجال کہ اس کے محبوب کی ثنا خوانی کر سکے ۔مناظر صاحب کو بھی اس کا ادراک ہے ‘لہٰذا کہتے ہیں :
مدحت کا ان کی کیسے بشر سے ہو حق ادا
خود جب خدا نبی کا ثنا خواں دکھائی دے
تا ہم اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ زیر نظر مجموعہ میں شامل نعوتِ پاک نہ صرف فنی کسوٹی پر پوری اترتی ہیں بلکہ شرعی حدود سے متجاوز بھی نہیں ہیں۔بلا تامل کہا جا سکتا ہے کہ انھوں نے نعت کی جملہ خصوصیات کا اظہار فنی رچاؤ کے ساتھ کرنے کی کامیاب سعی کی ہے اور اس میں وہ سر خرو گزرے ہیں۔
نعت گوئی کا رِ ثواب بھی ہے اور وسلۂ نجات بھی ۔اسی خیال پر مبنی ان کے اس شعر پر اپنی بات ختم کرتا ہوں :۔
مناظرؔ نے کہیں دوچار نعتیں اس غرض سے ہی 
کہ آڑے وقت میں اس کو یہ دولت کام آیے گی  
٭٭٭

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے