JAHAN-E-NAAT Naat World
نومبر, 2019 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیںسبھی دکھائیں
پہنچتا ہے پیام تازہ مجھ تک دم بہ دم اس کا بیاضِ دل پہ کیا کچھ لکھتا رہتا
ہے قلم اس کا
دھوپ سایہ دے شجر سے ہو تمازت کا ظہور ہو اگر تیرا اشارہ چاند سے چھن جائے
نور
ترا ہی بحر، سفینہ رواں بھی تیرا ہے بھنور بھی تیرے ہیں اور بادباں بھی
تیرا ہے
ندی جھرنا تالاب کہسار تیرا ہر اک شے سے ہوتا ہے اظہار تیرا
میری ہستی ظہور ہے تیرا ذرے ذرے میں نور ہے تیرا
خدا یا تو خالق ہے مالک ہے میرا میں بندہ ہوں مسکین و محتاج تیرا
ہر ایک لمحے کے اندر قیام تیرا ہے زمانہ ہم جسے کہتے ہیں نام تیرا ہے
کوئی تو ہے جو نظامِ ہستی چلا رہا ہے، وہی خدا ہے
شام شہر ہول میں شمعیں جلا دیتا ہے تو یاد آکر اس نگر میں حوصلہ دیتا ہے تو
قرآں کے سپاروں میں احساں کے اشاروں میں
حکمت و صناعی کس کی آج ہے وردِ زباں چشمِ حیرت دیکھتی ہے کس کی قدرت کا سماں
حمد ہے میری زباں پہ تیری اے پروردگار رحمتوں کا تیری صبح و شام ہوں
امیدوار
تعالیٰ تجھ سا کوئی اور باکمال نہیں مثال یہ ہے کہ تیری کوئی مثال نہیں
مجھے حمد و ثنا کافی ہے رب کی تمنا کیوں کروں بزم طرب کی
کئے ہیں اتنے جہاں ایک اور کرم کردے مرے خدا تو مری خواہشوں کو کم کردے
میرااللہ تعالیٰ تو ہے رحمن بہت مجھ گنہگار کی بخشش کا ہے امکان بہت
تیرے نام سے ابتدا ہے خدایا کہ تو مہرباں ہے بڑا رحم والا
یہ تیری زمیں یہ تیرا آسماں ہے جدھر دیکھتا ہوں تو ہی ضوفشاں ہے
فرش تا عرش ترے حسن کا جلوہ دیکھا کہیں پنہاں تجھے دیکھا کہیں پیدا دیکھا
حمد تیری کیا کرے کوئی بیاں اے خدائے پاک ربِّ دو جہاں
کوئی تعویز بھیج، ہیکل بھیج روح کی مشکلات کا حل بھیج
تو حاصل ہے تو لا حاصل کہاںہے یہاں نقصان کی منزل کہاںہے
میری جانب نہ کیا دست تونگر تونے دیدیا خود ہی بہت پھاڑ کے چھپر تونے
ازل کی خامشی، تیری نشانی ابد تک شور اور میری کہانی
ہوں میں بھی اس کا مرا بست و در بھی اس کا ہے سفر بھی اس کا ہے زادِ سفر
بھی اس کا ہے
ہے تپتی دھوپ میں سایا بس اس کا نام تلافیٔ غم دنیا میں ایک اس کا نام
میں فنا ہوں بقا بس تری ذات ہے لاشریک اے خدا بس تری ذات ہے
یاالٰہی یاکریم و یارحیم التجا کرتا ہوں تجھ سے یا علیم
اپنے رب کی صفات لکھتے ہیں سب سے اعلیٰ ہے ذات لکھتے ہیں
یاالٰہی یاکریم و یارحیم التجا کرتا ہوں تجھ سے یا علیم
درد کا درماں چین کا عنواں اک تو ہی سب کے خانۂِ دل کا مہماں اک تو ہی
غم و رنج و یاس میں گھر کے بھی نہ گلہ کروں تو میں کیا کروں
دشت کو تاریکیوں میں روشنی دیتا ہے کون مجھ کو ہر لمحہ شعور زندگی دیتا ہے
کون
لائق حمد و ثنائے بیکراں رب جلیل بے نظیر و بے مثال و بے شریک و بے عدیل
تری جانب سے ہے یہ غنچہ و گل میں جو نکہت ہے ’’ہراک تخلیق تیری شاہکارِ شان
و فطرت ہے‘‘
خالقِ دو جہاں مالکِ دو جہاں تیری توصیف کا ہم کو یارا کہاں
بندہ یہ خاکسار ہے اور ننگ و خوار ہے غافل ہے بندگی سے خطا بے شمار ہے
سب پہ لازم احترام اللہ کا ذرّہ ذرّہ ہے غلام اللہ کا
آزمائش میں مجھے کاہے کو ڈالا ربی میں کہاں ایسا تیرا نیکیوں والا ربی
پروردگارِ عالم اعلیٰ مقام تیرا تو رب ہے دوجہاں کا سارا نظام تیرا
حمد اس کی‘ جو ہے مالک دو جہاں حمد اس کی‘ جو ہے خالق انس و جاں
سب سے اعلیٰ سب سے ارفع شان رب العالمین ساری تعریفیں ہیں بس شایان رب
العالمین
ہر شئے میں تو ہی تو ہے ہر جا ظہور تیرا ہر رنگ میں نمایاں ہر دل میں نور
تیرا
نام سے تیرے جو آغاز سفر کرتا ہے راہ دشوار بھی ہوتی ہے تو سر کرتا ہے
ازل سے ہے تا ابد الٰہی تیرا جمال تیرا کمال تیرا ہمیشگی تیری ذات کو ہے
وجود ہے لازوال تیرا
وہ جس نے دی ہم کو زندگانی نہیں ہے کوئی بھی اس کا ثانی
تونے انسان بنایا قلم ایجاد کیا تھا وہ بے علم اسے علم کی دولت بخشی
تعریف اس خدا کی جو رب ہے عالموں کا وہ مہرباں بڑا ہے بے حد ہے رحم والا
ذرّے ذرّے میں جلوہ نمائی تری اے خدا بولتی ہے خدائی تری
بھرے جو جھولیاں سب کی وہ میرا ہی تو مولا ہے جو جانے بولیاں سب کی وہ
میرا ہی تو مولا ہے
عبد ہوں تیرا میں کرتا ہوں عبادت تیری نام حامدؔ ہے کیا کرتا ہوں مدحت تیری
دیر تیرا ہے حرم تیرا کلیسا تیرا جستجو ہو تو بہر سمت ہے رستہ تیرا
اے بندہ نواز، کار سازا محتاج ہیں سارے تو ہے داتا
صفات انت سے باہر، پہ ذات میں تنہا ازل سے تا بہ ابد، تیری شان ہے یکتا
اسی نے ایک حرفِ کن سے پیدا کر دیا عالم کشاکش کی صدائے ہاؤ ہو سے بھردیا
عالم
آہ جاتی ہے فلک پر رحم لانے کے لئے بادلو! ہٹ جائو دے دو راہ جانے کے لئے
لائوں کہاں سے حوصلہ آرزوئے سپاس کا جبکہ صفات یار میں دخل نہ ہو قیاس کا
کروں پہلے توحیدِ یزداں قلم جھکا جس کے سجدے کو اول قلم
کامل ہے جو ازل سے وہ ہے کمال تیرا باقی ہے جو ابد تک وہ ہے جلال ترا
کامل ہے جو ازل سے وہ ہے کمال تیرا باقی ہے جو ابد تک وہ ہے جلال ترا
یہ فلک تیرا زمیں تیری یہ رفعت تیری سارے ہی ارض و سما پر ہے حکومت تیری
فکر اسفل ہے مری، مرتبہ اعلیٰ تیرا وصف کیا خاک لکھے خاک کا پتلا تیرا
ہر جا اسی کے لطف و کرم کی بہار ہے بے شک وہ کائنات کا پروردگار ہے
نور و ظلمت سے عیاں ہے عظمت پروردگار ابتدا تا انتہا ہے سطوت پروردگار
زمین تا بہ فلک کب ہوا نہاں محور نہ کیوں ہو ذہن مرا مِحو ہے عیاں محور
گمرہی کے بُت گِرائے اور چراغاں کردیا رحمتِ عالم نے دنیا کو درخشاں کردیا
یہ چاند اسی کا ہے ، یہ ہالہ بھی اسی کا کرنوں کے یہ گچھے ، یہ اجالا بھی
اسی کا
یہ زمانہ تو حال میں کھویا میں کہ تیرے خیال میں کھویا
میرا خدا ، خدائے رحیم و کریم ہے ہر شئے جہاں کی ادنیٰ وہ یکتا عظیم ہے
ملتا نہیں کسی کو بھی اس کی عطا بغیر بنتی نہیں ہے بات خدا سے دعا بغیر
آزا د نظم میں نعتیہ اقدار